خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 788
خطبات طاہر جلد ۵ 788 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء کے عادی نہیں تھے انہوں نے باجماعت نمازیں شروع کر دیں۔جو تہجد نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے تہجد پڑھنا شروع کر دی اور جو بے نمازی تھے وہ نمازی بننے لگ گئے اور اس کا رد عمل اس آیت کے ساتھ ٹکرانے کا ایسا وسیع ہے، اتنا پر شوکت ہے کہ صرف پاکستان میں نہیں ہوا یہ رد عمل ، انگلستان میں بھی ہوا، جرمنی میں بھی ہوا، چین میں بھی ہوا ، جاپان میں بھی ہوا، امریکہ میں بھی ہوا ،افریقہ میں بھی ہوا، کوئی دنیا کا ملک ایسا نہیں ہے جہاں پاکستان کے حکمرانوں کی اس ناپاک کوشش کارد عمل اس صورت میں دنیا میں ظاہر نہ ہوا ہو کہ انہوں نے وہاں احمدیوں کونمازوں سے روکنے کی کوشش کی ہو اور دنیا کے کونے کونے میں احمدی نمازوں پر زیادہ قائم نہ ہو گئے ہوں۔تعداد کے لحاظ سے بھی ، نماز کے مزاج کے لحاظ سے بھی ، روحانیت کی شیرینی کے لحاظ سے بھی ، خشوع و خضوع کے لحاظ سے بھی غرضیکہ ہر پہلو سے اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں نکلا کہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کا معیار ہر صورت میں ہر پہلو سے اب پہلے کی نسبت بہت اونچا ہو گیا۔مسجدیں آباد کرنے کی کوشش بھی اسی کا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے مقابل پر مسجدیں ویران کرنے کی کوشش ، یہ اسلام تھا۔کلمہ تو حید کو احمدیوں کے دلوں سے نوچ لینا اور اس کے لئے اس محبت کے جرم میں ان کو سزائیں دینا، یہ ایک پہلو تھا ” اسلام کے نفاذ کا اور بعض دوسرے لوگوں کو کلمہ تو حید پر قائم کرنا اور کلمہ توحید سے محبت پیدا کرنا اور شرک کا قلع قمع کرنا یہ دوسرا پہلو تھا۔دونوں زبر دستی کی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئیں۔آج تو پاکستان میں عوام تو عوام پڑھے لکھے سمجھدار لوگ بھی کلمہ کے نام سے ڈرنے لگ گئے ہیں اور بکثرت ایسے واقعات ہو رہے ہیں کہ جب احمدی کسی کو کلمہ سینے پر لگانے کی تلقین کرتا ہے یا پیش کرتا ہے کہ آپ بھی لگائیں آپ بھی محبت کے دعویدار ہیں تو وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے کہ مجھے نہ اس معاملے میں لے کر آنا۔مجھ میں نہیں طاقت کہ میں ماریں کھاؤں لوگوں سے یا جیل میں ڈالا جاؤں اس لئے تمہیں کلمہ مبارک ہو۔شروع شروع میں نادانی اور انجانی میں لاہور یا کراچی وغیرہ میں جب احمدیوں نے کلمہ کے Stickers کاروں پر لگانے شروع کئے تو لوگ بڑے مسکرا کر اور شوق سے قبول کرتے تھے۔اب تو وہ کلمہ دیکھ لیں تو ان کی جان نکلتی ہے۔کوئی احمدی لے جا رہا ہو کسی کار کی طرف کلمہ تو وہ کار تیز کرلے گا یا اگر کھڑی ہے تو چلا دے گا تا کہ پہنچنے ہی نہ مجھے تک۔ایسا خوف طاری ہو گیا ہے بلکہ اس کے نتیجہ