خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 784
خطبات طاہر جلد ۵ 784 خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء وہاں جماعت احمدیہ اس آیت کے اثر کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے اور جتنی وسعت سے جماعت احمد یہ اس آیت کے مضمون سے آگاہ ہے، جتنی گہرائی سے جماعت احمد یہ اس آیت کے مضمون سے آگاہ ہے اس کا کوئی تصور باہر نظر نہیں آتا۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کے متعلق جب بحث کی جاتی ہے تو عموماً اسی پہلو سے بحث کی جاتی ہے کہ دین میں جبر کرنے کی اجازت ہے یا نہیں ہے اور بڑے بڑے غیر احمدی علماء نے بھی دونوں طرح کے مضامین پر قلم اٹھایا ہے مثبت بھی اور منفی بھی، لیکن ان سب کی بخشیں اس دائرہ میں محدود ہیں کہ گویا اس آیت کا انطباق صرف اسی حصے تک ہو کر ختم ہو جاتا ہے کہ دین میں جبر کی اجازت ہے یا نہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ آیت وسیع تر مضامین سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا دوسرا پہلو جس کا ذکر جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں ملتا ہے اور باہر نہیں ملتا وہ یہ ہے کہ جبر کو یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ کسی قسم کا دین بھی دنیا میں نافذ کر سکے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا یہ عنی کہ دین میں جبر کو استعمال کی اجازت نہیں درست ہے لیکن یہ ساری سچائی نہیں۔یہ آیت اس مضمون کو آگے بڑھاتی ہے اور یہ اعلان کرتی ہے کہ کسی قسم کا جبر دین میں ممکن ہی نہیں ہے۔کر کے دیکھ لو ہم یقین نا کام ہو جاؤ گے اور کبھی بھی جبر کے ذریعہ دنیا کے دین تبدیل نہیں کئے جاسکے۔پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک یہ کہ دین کو جبر کے ذریعہ نافذ کرنا یعنی سچائی کو ز بر دستی کسی کے اوپر ٹھونس دینا اور اس سلسلہ میں تلوار کا استعمال کرنا۔مسلمان علماء کی بھاری اکثریت اسی حصہ پر بحث کرتی ہے لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو ہے جسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور وہ اس آیت کریمہ کی رُو سے زیادہ اہم پہلو ہے اور وہ پہلو یہ ہے کہ زبر دستی کسی سے کسی کا دین چھینا نہیں جاسکتا۔اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔حق کے خلاف جو جہاد ہو گا وہ ضرور نا کام ہو جائے گا۔یعنی اس آیت کا رخ جیسا کہ یہ آیت خود اس مضمون کو واضح کر رہی ہے اس طرف زیادہ نہیں کہ غیر کو ز بر دستی اسلام نہ سکھاؤ بلکہ زیادہ اس طرف ہے کہ تم سے زبر دستی اسلام چھینے کی کوشش کی جائے گی اور دشمن ناکام رہے گا اور کبھی تم سے زبر دستی اسلام چھین نہیں سکے گا کیونکہ اس آیت سے جو مضمون اٹھتا ہے وہ اس موقع پہ جا کر رکتا ہے بڑے زور کے ساتھ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا کہ وہ لوگ جن کا ہاتھ ایک مضبوط کڑے پر پڑ چکا ہو، جسے کاٹ کر الگ کیا ہی نہ جا سکتا ہو۔کیسے ممکن ہے کہ ان کے دین کو تم تبدیل