خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 779 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 779

خطبات طاہر جلد ۵ 779 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء نہیں کر سکیں گے ۔ تم علی الرغم بڑھتے ہی چلے جاؤ گے اور پھیلتے چلے جاؤ گے اور نئی نئی ترقیات اور کامیابی تمہیں نصیب ہوتی چلی جائیں گی ۔ وَ اِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَتُوْكُمُ الْأَدْبَارَ ہو سکتا ہے کہ پھر ایسا وقت بھی آئے کہ تلوار تمہارے خلاف اٹھائیں اور تمہیں زبر دستی نیست و نابود کرنے کی کوشش کریں۔ فرمایا اگر ایسا وقت بھی آیا تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ تم خدا کی حفاظت کے نیچے رہو گے ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ لیکن ان کو کوئی مدد نہیں دے سکے گا، کوئی نہیں دنیا میں جو ان کی مدد کو آ سکے گا۔ کتنی عظیم الشان ضمانت ہے بظاہر کتنی ادنی ادغیسی نیکیوں کی ۔ صرف اتنا فرمایا اور وہ کچھ فرمایا جو فطرت کے عین مطابق ہے جو فطرت کے لئے سہل ہے۔ جسے اختیار کرنا عین انسانی فطرت سے ہم آہنگی رکھتا ہے۔ فرمایا تم اچھی باتیں کہو ، بری باتوں سے روکو، اس میں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جاؤ اور دروازے کھٹکھٹاؤ اور اعلان کرتے چلے جاؤ گلیوں گلیوں میں بھی ، گھر گھر جائے کہ دیکھو تم ڈوب رہے ہو تم ہلاک ہونے والے ہو ہم تمہیں بچانا چاہتے ہیں تمہیں ان برائیوں کو چھوڑ نا پڑے گا۔ یہ سب کچھ کرولیکن ایمان باللہ کے نتیجہ میں اس لئے کہ خدا تمہارا ایک ہے اس لئے کہ تم جانتے ہو کہ یہ خدا کی مخلوق ہے۔ جس خالق سے تمہیں محبت ہے اس کی مخلوق کی خدمت اپنا شعار بنالو۔ یہ ہے وہ تعلیم جو کوئی مشکل تعلیم کوئی ڈرانے والی تعلیم تو نہیں لیکن فرمایا اس کے نتیجہ میں ضرور يَضُرُّ وَكُمْ تمہیں تکلیف دینے کی کوشش کریں گے لیکن لَن يَضُرُّ و کم تکلیف نہیں دے سکیں گے إِلَّا أَذًی ایک معمولی سی تکلیف ہے۔ یہ تکلیف کہاں سے شروع ہوئی اس کا ذکر کہاں سے آیا۔ پہلی آیت کا آخری حصہ دراصل اس مضمون کو چھیڑ چکا تھا فرمایا وَأَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ کہ اکثر اہل کتاب میں سے بد ہو چکے ہیں ، فستق اختیار کر چکے ہیں اور فاسق ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ جب اسے اس کی برائی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو اسے غصہ آتا ہے، اسے جب نیکی کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے اور صرف اس لئے مخالفت نہیں کرتا کہ تمہارا مذہب اور ہے اور اس کا مذہب اور ہے، تمہارا عقیدہ اور ہے اور اس کا عقیدہ اور ہے بلکہ فاسق کی طبیعت میں یہ بات داخل ہو جاتی ہے کہ جو اسے بدی میں آگے بڑھانے کی باتیں کرے وہ اس کا دوست بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ صحبت اختیار کرتا ہے، اس کی رفاقت اختیار کر جاتا ہے ، اسے ایسا آدمی اچھا لگتا ہے جو ہم جنس بن جائے، شرابیں ساتھ پیئے ، برائیاں کرے ، برائیوں کی نئی نئی تجویزیں سوچے، رشوت کھائے اور رشوت کی