خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 776 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 776

خطبات طاہر جلد ۵ 776 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء فطرت کی نیکی ضروری ہے۔یہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جماعت کو۔صرف پاکستان کا ذکر نہیں ساری دنیا میں یہ حال ہے اس وقت۔برائیاں مختلف نوع کی ہیں۔امیر سوسائٹی کی برائیاں اور ہیں اور غریب سوسائٹیوں کی اور ہیں، نئے آزاد ہونے والے ممالک کی برائیاں اور ہیں دیر سے آزاد ہونے والے ممالک کی برائیاں اور ہیں، غلاموں کی برائیاں اور ہیں آقاؤں کی اور ہیں۔لیکن ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: ۱) کا نقشہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔کسی کا نام آپ تری رکھ لیں کسی کا خشکی رکھ لیں لیکن وہ بنیادی گند جس نے ساری انسانی سوسائٹی کو نا پاک اور گندا کر دیا ہے۔جس نے انسانی تعلقات کے درمیان زہر گھول دئے ہیں۔وہ بنیادی خرابیاں آپ کو ہر جگہ ملیں گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ انگلستان امن میں ہے۔دن بدن یہاں ہولناک جرائم بڑھتے چلے جارہے ہیں، انتہائی انسانیت سوز جرائم بڑھتے چلے جارہے ہیں۔چھوٹے بچوں پر، آپ کو یقین نہیں ہے کہ جب یہ سکول جائیں گے تو کسی ظالم کی دستبرد سے محفوظ رہیں گے یا نہیں رہیں گے۔تو صرف ایک ملک کا قصہ نہیں ہے تمام دنیا میں، افریقہ میں بھی، نائیجیر یا میں بھی اور غانا میں بھی جو اطلاعیں مل رہی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ انسانی سوسائٹی گر رہی ہے اور یہ ایک تنبیہ ہے بڑی خطرناک کہ وہ آخری خوفناک عذاب الہی جس کی قرآن کریم میں بار بار خبر دی گئی ہے اس کے دن بھی قریب آرہے ہیں۔اس لئے اگر آپ نے ان لوگوں کو بچانا ہے، بنی نوع انسان کی سچی ہمدری ہے آپ کے دل میں تو دعا ئیں ضرور کریں، دعاؤں کے بغیر یہ کام نہیں ہو گا مگر قدم اٹھا ئیں ساتھ تب دعائیں قبول ہوں گی ورنہ آپ کی دعائیں جھوٹی ہو جائیں گی۔ایک آدمی کو روٹی میسر آسکتی ہوا گر وہ چار قدم چل کر روٹی کی طرف جائے اور وہ بیٹھا رہے اور دعا کرتا رہے اے خدا مجھے روٹی یہاں پہنچا دے کبھی اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔اگر روٹی نہیں بھی ہوگی اور دعا کرے گا اور ساتھ روٹی کی تلاش میں قدم اٹھائے گا تو اس کو روٹی مہیا ہو سکتی ہے لیکن اگر قدم نہیں اٹھائے گا روٹی موجود ہے اس کی دعا اس کے کچھ کام نہیں آسکتی۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ دعا ئیں ضرور کریں دعاؤں کے بغیر ہمارے اعمال میں برکت نہیں پڑ سکتی ہے اور دعاؤں کے بغیر ہم وہ حاصل نہیں کر سکتے ہیں جو ہماری طاقت سے باہر ہے۔لیکن دعاؤں کو مقبول کرنے کے لئے عمل صالح ضروری ہے جو کلمات کو رفعت عطا فرماتا