خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 777

خطبات طاہر جلد۵ 777 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء ہے دعاؤں کو آسمان کے کناروں تک پہنچا دیتا ہے۔وہ عمل صالح وہی ہے جس کا ان آیات میں بیان ہے کہ جماعت احمد یہ کونیکیوں کی تعلیم کا اور برائیوں سے روکنے کا عالمی جہاد شروع کرنا چاہئے۔بجائے اس کے کہ آپ کسی کا دروازہ کھٹکھٹا کر پہلے اس کو یہ کہیں کہ آؤ میں تمہیں اسلام کی طرف بلا رہا ہوں یا احمدیت کی طرف بلا رہا ہوں آپ اس کو کہیں تمہیں احساس نہیں کہ تم سے کیا ہورہا ہے۔تم لوگ جھوٹے ہو گئے ہو، تم لوگ ظالم اور گندے ہو چکے ہو ، امن اٹھ چکا ہے، تمہاری سوسائٹی خراب ہو گئی ہے، آؤ ہم مل کر اس سوسائٹی کو ٹھیک کرنے کے لئے کوشش شروع کرتے ہیں۔ہم نیکیوں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور اللہ پر ایمان کی آواز دیتے ہیں کیونکہ خدا پر ایمان لائے بغیر کوئی سوسائٹی بھی حقیقت میں سدھر نہیں سکتی۔اگر اس طرح کی آواز آپ بلند کریں تو آج آپ کو جو احساس ہوتا ہے کہ ہم پر دروازے بند کئے جاتے ہیں کل آپ خوشی کے ساتھ یہ محسوس کریں گے کہ دروازے کھل رہے ہیں آپ پر بند نہیں ہورہے کیونکہ آپ نے بنی نوع انسان کو قرآن کی تعلیم کے مطابق بلا نا شروع کیا ہے۔قرآنی تعلیمات کو نظر انداز کر کے نہیں بلا رہے۔حقیقت یہ ہے کہ جن سوسائٹیوں میں ہم رہ رہے ہیں اگر ہم نے ان کی اصلاح نہ کی تو خود ہماری اصلاح پر اس کے نہایت بد اثرات پڑیں گے اور پڑرہے ہیں۔جتنا زیادہ درجہ حرارت کا فرق ہواتنا ہی زیادہ ٹھنڈی چیزیں اگر گرمی ہے تو گرمی کی طرف ڈوریں گی اگر سردی ہے تو سردی کی طرف ڈوریں گی۔سردیوں میں چائے کا گرم رکھنا مشکل ہوتا ہے اور گرمیوں میں آئس کریم کا منجمد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔آپ کا درجہ حرارت اور ہے، آپ خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں اور اس درجہ حرارت کی حفاظت کے لئے بہت سے طریق ہیں۔ان میں ایک یہ ہے کہ ماحول کا درجہ حرارت تبدیل کریں اس کو اپنی طرف مائل کریں اور اس کے لئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی جنگ ضروری ہے اور اس جنگ سے پہلے بنیادی طور پر دل کو اس طرف مائل کرنا پڑے گا کہ میں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے نکلا ہوں۔یہ صفات اگر پیدا ہو جائیں تو بظا ہر کسی کے لئے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بظا ہر کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔یہ صفات اگر پیدا ہوجائیں تو انسان یہ خیال کرتا ہے، یہ اندازہ لگاتا ہے کہ پھر کسی کے پاس کوئی عذر نہیں رہے گا میری مخالفت کرنے کا عذر نہیں رہے گا۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں اور میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس بنیادی