خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 770
خطبات طاہر جلد ۵ 770 خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۱۹۸۶ء بنی نوع انسان میں پائی جانی ضروری ہیں۔ چنانچہ معروف سے یہ مراد نہیں کہ جو قرآن کریم کے احکامات ہیں ان کی طرف لوگوں کو بلا کو بلاتے ہو، نہ اس سے یہ مراد ہوس ، یہ مراد ہو سکتی ہے کہ یہودیت نے جو تع تعلیم دی ہے اس کی طرف بلاتے ہو۔ معروف سے مراد یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی نگاہ میں خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کسی رنگ سے تعلق رکھتے ہوں ،کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو نیکیوں کا تصور خدا تعالیٰ نے فطرت میں پیدا کر دیا ہے، جو بھلائی کا ایک خاکہ ان کی تعمیر کے اندر داخل کر دیا گیا ہے وہ ان کی تخلیق کے نقشہ میں شامل ہے اس کو معروف کہتے ہیں۔ ہندو سے پوچھیں تب بھی وہ اسے بھلائی کہے گا عیسائی سے پوچھیں تب بھی وہ اسے بھلائی ہی کہے گا ، ایک دہریہ سے پوچھیں تب بھی وہ اسے بھلائی ہی کہے گا ۔ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی (الاعراف: ۱۷۳) سے اس کا تعلق ہے۔ فطرت انسانی میں سموئی ہوئی خوبیاں، وہ نیکیاں جو بلا شرط مذہب بلا اختلاف ہر انسان میں قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں فرمایا تم ان نیکیوں کی طرف بلاتے ہو۔ اس میں ایک گہر ا سبق ہے داعین الی اللہ کے لئے بھی کسی قوم کی مذہبی نظریاتی تعمیر نہیں ہو سکتی جب تک پہلے اس کی اخلاقی تعمیر کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نظریاتی تعمیر کے لئے جب آپ کوشش کرتے ہیں تو شدید مخالفت پیدا ہوتی ہے اور آپ ایک فریق بن جاتے ہیں لیکن جب آپ اخلاقی تعمیر کے لئے کوشش کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ کوئی کہاں ہے اور اس کے ماتھے پر کیا لیبل لگا ہوا ہے انسانی قدر مشترک کی بات کرتے ہیں ۔ اس لئے بظاہر اس کے اوپر ناراض ہونے کی کسی کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے۔ میں نے بظاہر کہا ہے اس لئے کہ عملاً جنہوں نے ناراض ہونا ہو وہ اس بات پر بھی ناراض ہو جاتے ہیں مگر بہر حال جہاں تک ظاہری تعلق ہے آپ جب کسی کو کہتے ہیں کہ تم سچ بولو ، تم رشوت نہ لو تم ظلم نہ کرو تم لوگوں کے مال نہ کھاؤ تم غریبوں کے حقوق نہ غصب کر وہ تم یتامی سے رحم کا سلوک کرو ، تم غربیوں کی پرورش کر وہ تم بیواؤں کا خیال رکھو۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو امر بالمعروف میں داخل ہیں ۔ تہذیب سے بات کرو، انسانیت کے سلیقے سیکھو۔ یہ سارے امور کسی ایک مذہب کی تعلیم سے وابستہ نہیں بلکہ ایک عمومی تعلیم ہے جو انسانی فطرت میں داخل ہے۔ تو فرمایا تم اس