خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 761 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 761

خطبات طاہر جلد۵ 761 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء اور بعض دفعہ شدید نقصان پہنچتا ہے۔اگر اس محبت سے جل کر نصیحت کے نام پر طعن کئے جائیں تو اس سے بھی انسان کو بہت شدید نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے مومن کا کام ہے کہ بیدار مغزی سے اپنے سارے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے چلے اور اس زندگی میں محسوس کرے کہ میں یہاں بھی پل صراط سے گز رہا ہوں بہت باریک فیصلے ہوتے ہیں جو روز مرہ زندگی میں مجھے کرنے پڑنے ہیں اگر ان میں غلطی کرونگا تو اس کے نتیجہ میں آخرت میں بڑے نقصان کا موجب میری یہاں کی ٹھو کر بن سکتی ہے اور وہی پل صراط کی لغزش ہے جو دراصل ایک تمثیل کی شکل میں بیان فرمائی گئی ہے۔مختلف ادوار میں ہم نے دیکھا ہے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے محبت کرتے ہیں لیکن جاہلا نہ محبت نہیں کرتے۔اگر کوئی ان میں سے سچائی سے ہٹنے لگے ، اس کے اعمال خراب ہو جائیں، لین دین میں وہ گندا ہو جائے ، دین کی ذمہ داریوں میں پیچھے ہٹ جائے تو وہ اس کے نتیجہ میں اس کے لئے تکلیف تو محسوس کرتے ہیں مگر اسے عزت میں نیک خاندان کے افراد کے ساتھ ملاتے نہیں پھر لیکن ان کے دل میں ایسے ان محروموں کے لئے تکلیف ضرور ہوتی ہے جیسے اپنے بچوں کے لئے تکلیف ہوتی ہے۔اپنے بچوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض سعادت مند ہیں بڑی خدمت کرتے ہیں ماں باپ کی اور بعض ظالم بن جاتے ہیں۔کون ماں باپ ہے جو ہوش مند ہو اور دونوں سے بالکل ایک ہی طرح سلوک کرے جو خدمت کرنے والے ہیں جو بچے ہیں جوا خلاص رکھنے والے ہیں ان سے وہ پیار کرتا ہے اور جو دوسرے ہیں ان سے وہ دشمنی نہیں کرتا مگر اپنی تکریم میں فرق کر دیتا ہے۔اس کے لئے دکھ محسوس کرتا ہے لیکن دکھ جو ہے وہ عداوت میں نہیں بدلا کرتا۔پس قرآن کریم میں جو ایتائے ذی القربیٰ کا حکم ہے اس میں ایک یہ مضمون ہے جو بیان ہوا ہے کہ جب تم مومنوں سے سلوک کرو تو اپنے قریبیوں کے ساتھ جس طرح سلوک کرتے ہو اس پر نظر رکھو وہ سلوک تمہاری راہنمائی کرے گا کہ کون سا درست سلوک ہے کونسا غلط سلوک ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے کہ ان سے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی جز انہیں چاہتا ہوں إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى اقرباء کی جو تم مودت رکھتے ہو وہ تمہارے لئے رہنما اصول ہو جانا چاہئے تمہیں خدا نے یہ سب باتیں سکھا دی ہیں۔اسی طرح کا مجھ سے اور میرے قریبیوں سے سلوک کرو یہی کافی ہے تمہارے لئے اور میں تم سے کسی جزا کی تمنا نہیں رکھتا یہ تمہارے