خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 760 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 760

خطبات طاہر جلد۵ 760 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں جماعت کا نمائندہ فلاں گھر ٹھہرا تھا آرام سے چند دن مرغے کھا کر چلا گیا واپس اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ مخلص ہیں اور ہم لوگ غریب ہیں اس لئے ہم مخلص نہیں ہیں۔اکثر ان الزامات میں کوئی بھی سچائی نہیں ہوتی ، جو جانے والے ہیں بہت سے میں جانتا ہوں جن کے متعلق شکایت آتی ہے نہایت مخلص فدائی خود قربانی کرنے والے ان کا اگر بس چلے تو وہ غریب سے غریب آدمی کے بھی پاس جا کے ٹھہریں۔چونکہ وہ نظام جماعت کا احترام کرنے والے ہوتے ہیں، روایات سلسلہ کو جانتے ہیں جہاں امیر جماعت نے کہہ دیا وہیں وہ ٹھہریں گے اور پھر دیکھنے والے حاسد کی آنکھ کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ وہ دل میں یہ تمنالے کر جاتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو سکے چاہے غریبانہ طور پر ہی سہی ہم ان کی مہمان نوازی کا بدلہ ضرور ا تاریں۔چنانچہ قادیان کا بھی مجھے یاد ہے، ربوہ کا بھی تجربہ ہے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمارے واقفین زندگی غریب لوگ جب باہر جا کر امیروں کے گھر ٹھہرتے ہیں تو جب بھی وہ ربوہ میں قدم رکھتے ہیں تو یہ منتیں کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں سے چائے کی ایک پیالی پی لو۔دل میں ایک احسان کا اور قدرشناسی کا جذبہ ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کچھ نہ کچھ ان کا احسان کا بدلہ اتارا جائے۔وہ احسان لینے کے بھو کے نہیں ہوتے احسان سے زیر بار محسوس کرتے ہیں اپنے آپ کو۔وہ شرمندہ ہو کر واپس آتے ہیں لیکن حاسدان کے خلاف بھی باتیں کرتا رہتا ہے۔خاندان کے متعلق بعض دفعہ اور طرف کے حسد ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے خاندان کا مجھے تجربہ ہے مختلف قسم کے لوگوں سے تعلقات کا اور ان کے اظہار خیال کا اور یہ بات بھی ایسی ہے جو وقتا فوقتا دہرائی جانی چاہئے اور جماعت کا اصل آداب سے اور سچائی سے بار بار مطلع رکھنا چاہئے ورنہ حسد یہاں بھی داخل ہو جاتا ہے اور کئی قسم کی خرابیاں پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے جماعت کی بھاری اکثریت محض اس لئے محبت رکھتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا تعلق ہے اور یہ طبعی محبت ایسی گہری ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خاندان کو بنے ہوئے جو بیٹی کی طرف سے تھا چودہ سوسال ہو گئے ہیں لیکن آج تک امت مسلمہ سے اس خاندان کی محبت اور عزت دل سے نہیں نکلی۔ایک طبعی چیز ہے لیکن اگر اس محبت کو بے روک ٹوک آگے بڑھنے دیا جائے تو اس کے نتیجہ میں بھی نقصان پہنچ جاتا ہے