خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 759
خطبات طاہر جلد ۵ 759 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء نصیحت رکھنا یہ ایک بیوقوفی ہے، وہ بے شک اسے نصیحت کہتا چلا جاۓ الــديــن الـنـصيـحة میں وہ نصیحت شمار نہیں ہو سکتی ۔ پس جماعت احمد احمد یہ نے چونکہ نصیحت کرنی ہے ، بیرونی بھی اور اندرونی بھی اس لئے جماعت احمدیہ کو اس مضمون کو خوب سمجھنا چاہئے اگر جماعت احمدیہ کی نصیحت میں حسد شامل ہو گیا یہ ہمیشہ چھپ کر شامل ہوا کرتا ہے۔ تو جماعت کا اندرونی نظام بھی تباہ ہو جائے گا اور بیرونی تبلیغی نظام بھی تباہ ہو جائیگا ۔ اسی رستہ پر جماعت چل پڑے گی جن رستوں کے چلنے والوں سے دکھ اٹھا رہی ہے جن رستے پر چلنے والوں کے غضب کا نشانہ بنی ہوئی ہے آج ۔ انہی رستوں پر خود چل پڑے گی اور پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم کیا کر بیٹھے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ اس لئے نہایت گہری نظر کی ضرورت ہے، نہایت فکرمندی کے ساتھ ان باتوں کا جائزہ لینا چاہئے اور اپنے دلوں کو ٹولنا چاہئے ، اپنے گھروں کی حفاظت کرنی چاہئے کہ کسی طریق سے بھی حسدان میں داخل نہ ہوا اور حسد عجیب عجیب طریقوں سے انسان میں داخل ہوتا ہے ایسے ایسے بھیس بدل کے آتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے عام روز مرہ کی زندگی میں تو کسی خاندان کو خدا تعالیٰ نے دولت عطا فرمادی ہے تو اس کی برائیوں کی طرف تو انگلیاں اٹھنے لگ جاتی ہیں اور ان کے اگر ساتھ نظام جماعت ذرا سا بھی حسن سلوک کرے تو سب یہ کہنے لگ جائیں گے کہ دیکھا ! امیر لوگ تھے اس لئے ایسا ہوا ۔ کوئی جماعت کا نمائندہ کسی امیر کے گھر ٹھہر جائے اور امیر لوگوں کو بھی اپنی محبت اور اخلاص میں خواہش ہوتی ہے کہ ہم جماعت کے نمائندوں کو ٹھہرائیں ۔ جو خالصہ محبت رکھنے والے لوگ ہیں وہ پسند کرتے ہیں اس بات کو وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس آئیں لیکن تکلیف نہ اٹھائیں اور جو ہم میں سے نسبتاً متمول ہیں جو ان کے آرام کا خیال رکھ سکتے ہیں ان کے پاس ٹھہریں اور بسا اوقات مجھے بہت لمبے سفروں کا تجربہ ہے غرباء کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ ہمارے گھر بھی قدم رکھیں لیکن آپ کا آرام مقدم ہے اس لئے فلاں گھر میں آپ کے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ امیر جماعت ہے وہ خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ میرے گھر ٹھہر ولیکن کہتا ہے کہ نہیں مجھے پتا ہے کہ آپ کو تکلیف پہنچے گی نسبتاً اس لئے میں چاہتا ہوں کہ فلاں جگہ ٹھہریں اور بعض لوگ جن کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، قربانیوں میں شامل نہیں ہوتے وہ ان دوروں کے بعد چٹھیاں لکھنا