خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد ۵ 754 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء صلى الله طرف بلاتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ جب مومن کسی کو بلاتا ہے خدا کی طرف یا اس دین کی طرف جسے وہ سچ سمجھتا ہے تو کسی حسد کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس شخص سے پیار اور محبت کے نتیجہ میں جس کو بلا رہا ہوتا ہے۔ رحمة للعالمین ہونے کے نتیجہ میں دنیا کو بلاتا ہے نہ کہ زحمة للعالمین ہونے کے نتیجہ میں ۔ چنانچہ بظاہر دعوئی ایک ہی ہے، بظاہر ایک ہی نام پر ایک پیغام کی طرف بلایا جا رہا ہے لیکن چونکہ بنیادی طور پر دل میں بلانے کی تحریک کرنے والی طاقت بدل چکی ہے۔ اس لئے ایک بلانا لعنت بن جاتا ہے اور ایک بلانا رحمت بن جاتا ہے۔ ویسے تو آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام بھی ان لا ، لوگوں کو جو دین اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں واپس اسلام کی طرف بلاتے ہیں پھر فرق کیا ہوا؟ فرق یہ ہوا کہ وہ ان سے پیار اور محبت کے نتیجہ میں ان کے بچانے کی خاطر بلاتے ہیں اور بعض لوگ اس لئے بلاتے ہیں کہ یہ طاقتور ہو رہے ہیں، یہ بڑھ رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں اور قوی تر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ حَسَدا کا مضمون یہ بھی بتا رہا ہے کہ جن لوگوں سے حسد کیا جا رہا ہے وہ ویسے تعداد میں تھوڑے تھے اگر اتنے ہی رہتے ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا ان کو ۔ اگر وہ تبلیغ چھوڑ دیں اور پھیلنا چھوڑ دیں لوگوں کو پیغام پہنچانا چھوڑ دیں تو ان کے خلاف ارتداد کی تحریک بھی خود بخود مر جائے گی کیونکہ ان سے محبت کوئی نہیں ان کو ۔ اگر ان کو اتنا پتہ لگ جائے کہ جس مقام تک پہنچ گئے ہیں اسی پر ٹھہرے رہیں گے اور جس طرح (Stagnant Water) کھڑا ہوا پانی آہستہ آہستہ گندا ہو کر فاسد پانی، گندا پانی ہو جاتا ہے اسی طرح ان کی تحریک خود بخود اپنی موت مر جائے گی تو ان کو تم سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ ہرگز وہ پھر اپنی طرف تمہیں بلائیں گے ہی نہیں، انھیں ضرورت ہی کوئی نہیں تمہیں اپنی طرف بلانے کی لیکن جب یہ دیکھتے ہیں کہ تم پھیل رہے ہو تم رسوخ بڑھا رہے ہو تم زیادہ طاقتور ہوتے چلے جا رہے ہو تو چونکہ تم سے انہیں محبت نہیں ہے بلکہ دشمنی ہے اس لیے حسد کے نتیجہ میں ان کی ارتداد کی تحریکیں جنم لیتی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں زبردستی اپنے اندر واپس لے کر آئیں گے۔ تو کتنا نمایاں فرق ہو گیا ہے ایک تبلیغ کا دوسری تبلیغ سے کیونکہ محرکات بدل گئے ہیں ۔ اب عجیب بات ہے بعینہ اسی آیت کی تفسیر میں یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح کوئی اس زمانے کے حالات کو سامنے رکھ کر یہ بات بیان کر رہا ہے اور یقیناً خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو زمانے کے حالات کو سا ۔ سامنے رکھ کر یہ بیان فرما رہا تھا۔ جس طرح ان امور کا اطلاق اولین دور پر ہوا اسی طرح آخرین کے دور پر بھی ہو رہا ہے۔