خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 755
خطبات طاہر جلد۵ 755 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء کھلم کھلا مطالبے یہ کئے جارہے ہیں کہ تم پھیلنا بند کر دو ہم تمہیں زبر دتی واپس لا نا بند کر دیں گے۔یعنی تم اتنے ہی رہو چاہے جہنم میں جاؤ، ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔چاہے ہلاک ہو جاؤ ہمیں ذرا کوڑی کی بھی فکر نہیں ہوگی۔لیکن اگر پھیلو گے تو پھر ہم تمہیں سزا دیں گے، پھر تمہیں زبر دستی چھین کر اپنی طرف واپس لے کر آئیں گے۔تو ان کی تبلیغ کا محرک حسد ہے۔فرمایا اس کا جواب کیا ہے: فَاعْفُوا وَاصْفَحُوْا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى (البقره: ۱۱۰) كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ اے مومنوں جن کو حسد کی بنا پر ان کی نشو و نما کو دیکھ کر جلتے ہوئے لوگ زبر دستی تلوار کے زور پر ظلم و تعدی کے ذریعہ ہوا پس اپنے دین میں کھینچ کے لانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے میرا پیغام یہ ہے فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا ان سے اعراض کرو اور درگزر سے کام لو، ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کرو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنا فیصلہ ظاہر فرما دے۔اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ حقیقت میں غلبہ دینا خدا تعالیٰ ہی کا کام ہے۔ایسے کمزور لوگ جن کو ہر کس و ناکس اٹھ کر مٹا دینے کے دعوی کرنے شروع کر دیتا ہے، ایسے کمزور لوگوں کا آج یہ دعوی کہ ہم غالب آجائیں گے محض ایک احمق کی خواب قرار دیا جا سکتا ہے اس سے زیادہ اس کو نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن اگر اللہ ان کے ساتھ ہو، اگر تائید سماوی ان کو حاصل ہو، اگر خدا کی پشت پناہی انھیں نصیب ہو تو پھر بات بالکل بدل جاتی ہے پھر ان کو خدا بیچ میں سے ہٹا دیتا ہے فرماتا ہے حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ تم بٹ جاؤ بیچ میں سے فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ اچھا پھر تم راہ سے ہٹ جاؤ ، تم اس سے درگزر کرو اور ایک طرف ہو جاؤ اور انتظار کرو کہ خدا اپنے فیصلے کو صادر فرمائے گا۔اِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ تم کسی چیز پر قادر نہیں ہومگر خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ط وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكُوةَ ، وَمَا تُقَدِّمُوا لأَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ