خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد ۵ 752 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء نامراد رہنے والے ہیں، اپنے مقاصد میں یقیناً نا کام ہوں گے۔اس لئے نہیں کہ دنیا میں ان سے زیادہ طاقتور لوگ ان کا مقابلہ کریں گے۔فرمایا اس لئے کہ خدا تعالیٰ ان کا مخالف ہو چکا ہے اور جس کا خدا مخالف ہو جائے اس کا دنیا میں کوئی مددگار نہیں بن سکتا۔ایک اور علامت یہ بیان فرمائی آن لَهُمُ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيرًا حال ان کا یہ ہے کہ اگر ان کو کچھ مل جائے خدا کی طرف سے تو لوگوں کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، اگر حکومت پر قابض ہو جائیں تو چمٹ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہم نے اس میں سے کسی کو حصہ نہیں دینا نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ جب خدا کی طرف سے ان کا حکومت نصیب ہوتی ہے تو چاہتے ہیں ایک ذرہ بھی اس کا کسی اور کو نہ دیا جائے ،ساری کی ساری حکومت پر ہم قابض ہو کر بیٹھ جائیں أمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا أَنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جائیدادیں تقسیم کرنے پر تو بے شک حسد کریں کچھ نہ کچھ سمجھ آنے والی بات ہے۔فرمایا: أَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلَى مَا أَنهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِم کیا یہ بیوقوف لوگ اس فضل پر بھی حسد کرنے لگ گئے ہیں جو خدا عطا فرماتا ہے اپنے بندوں کو۔اگر یہ بات ہے تو سن لیں فَقَدْ أَتَيْنَا آلَ إِبْراهِيمَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَأَتَيْنَهُمْ مُلْكَا عَظِيمًا کہ اس سے پہلے ہم آل ابراھیم کو کتاب بھی دے چکے ہیں اور حکمت دے چکے ہیں اور ملک عظیم بھی عطا فرما چکے ہیں پس خدا کے فضلوں کو کوئی چھین نہیں سکتا جب وہ دینا چاہے۔یہاں ایک نہایت ہی لطیف نکتہ قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ ابراھیم کو کتاب کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ آل ابراھیم پر نعمتوں کا ذکر فرمایا اور درود شریف کی طرف توجہ مبذول فرما دی کــمــا اصــلیـت علی ابراهیم و علی آل ابراهیم مراد یہ تھی کہ آل محمد سے حسد کرنے والے بھی ہوں گے۔آنحضرت کے فیض کے نتیجہ میں جن پر خدا فضل فرمائے گا ان پر حسد کرنے والے ہوں گے۔فرمایا کہ پہلے ابراھیم کی آل سے تو کچھ چھین نہیں سکے جب ہم نے اس کو عطا کرنا چاہا تھا تو محمد مصطفی ﷺ کی آل سے کیسے چھین لو گے جب خدا عطا کرنا چاہے گا۔جو بچے آل محمد ہوں گے انہی پر خدا فضل نازل فرمائے گا جو نبوت کے فضل ہیں اور وہ سارے فضل عطا فرمائے گا جو اس سے پہلے ابراھیم کی آل پر فرما چکا