خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 750

خطبات طاہر جلد ۵ 750 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء لئے نہیں کہ اشتراکیت حسد کی پیداوار ہے بلکہ یہ اس لئے ہولناک فتنہ ہے کہ اشتراکیت اور دہریت اب ایک ہی چیز کے دو نام بن چکے ہیں اور دہریت کے بغیر اشترا کی فلسفہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور یہ خالصہ حسد کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ جہاں تک دین کا تعلق ہے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ نبوت کا انکار بھی حسد کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور اس زمانہ میں بھی وہ آیات جنگی ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی ہے وہ آیات اسی من آیات اسی مضمون کو بتارہی ہیں کہ نبوت کے انکار کی ایک بہت بڑی اور اہم بنیادی وجہ حسد ہے اور جو نقشہ کھنچا گیا ہے وہ اس زمانہ پر بہت عمدگی کے ساتھ اور تفصیل کے ساتھ پورا اترتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا ایسے لوگوں کو جن کو کتاب دی تو گئی مگر فی الحقیقت کتاب کا محض ایک حصہ دیا گیا۔ یعنی وہ شریعت سے وابستہ تو ہیں ایک الہی کتاب کے ماننے والے تو ہیں لیکن عملی طور پر ان کو کلیہ کتاب کا ماننے والا نہیں کہا جا سکتا بلکہ کتاب کی تعلیم میں سے ایک حصہ کو وہ اپنائے ہوئے ہیں اور باقیوں کو ترک کر چکے ہیں اور جس حد تک وہ کتاب کو ترک کر چکے ہیں اس حد تک ان میں دو خرابیاں نمایاں طور پر دکھائی دیں گی يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ کتاب کی تعلیم کے ایک حصہ کو ترک کر کے وہ لغویات میں مبتلا ہو گئے ہیں اور رسوم کے پجاری بن گئے ہیں، بے ہودہ لغو رسومات کو انہوں نے دین قرار دے دیا ہے وَالطَّاغُوتِ یا اعتدال پسندی سے نکل کر حد سے زیادہ بڑھنے والا دین اختیار کر لیا ہے۔ طاغوت اس کو کہتے ہیں ایسی طاقت جو اعتدال پر نہ رہے بلکہ انتہا پسند ہو جائے ۔ بغاوت بھی طاغوتیت کا ایک مظہر ہے اس لئے طاغوت لفظ کے ساتھ باغی کا مفہوم بھی شامل ہے ہر انتہاء پسند وجود طاغوت کے لفظ کے تابع آجاتا ہے ۔ تو فرماتا ہے يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وہ انتہا پسند ہو جاتے ہیں یعنی ایک طرف یہ حال ہے کہ ان کا ایک حصہ لغویات کے پیچھے لگ جائے گا اور دوسرا دین میں اتنا تشدد کرنے لگ جائے گا کہ انتہا تک پہنچ جائے گا اور وسطی حالت باقی نہیں رہتی ۔