خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد۵ 748 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء تک کہ انبیاء کا انکار بھی قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر حسد کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔حسد کیا چیز ہے؟ اس سے عموماً تمام وہ لوگ جو اردو سے واقف ہیں وہ اس کا مضمون جانتے ہیں کہ کسی کو اچھا دیکھنے پر اس کی تکلیف محسوس کرنا اور ہر زبان میں اس سے ملتا جلتا مفہوم پایا ہی جاتا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں ، ہر مذہب وملت میں، ہر رنگ میں، ہر جغرافیائی حدود میں رہنے والوں میں حاسد ملتے ہیں اور وہ بھی ملتے ہیں جن سے حسد کیا جاتا ہے۔جب تک دنیا کی سوسائٹی میں کسی قسم کا زیر و بم ہے اورنچ اور نیچ ہے حسد کو کلیۂ مٹایا جا نہیں سکتا۔اشترا کی دنیا میں بھی باوجود اس کے کہ اقتصادی لحاظ سے یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے تمام سوسائٹی کو برابر کر دیا۔قطع نظر اس سے کہ سوسائٹی حقیقہ اقتصادی لحاظ سے برابر ہوئی ہے یا نہیں ہوئی اگر سو فیصد برابر بھی ہو چکی ہو تب بھی حسد کا قلع قمع اس سوسائٹی سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے حسد محض اقتصادی برتری کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ حسد ہر برتری کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔حکومت کی برتری کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتا ہے اور دین میں برتری کی نتیجہ میں بھی ہوتا ہے۔صرف ان چیزوں پر انہیں ہوتا ہے جن کا دینا صرف بندے کے اختیار میں ہے بلکہ ان چیزوں پر بھی ہوتا ہے جن کا دینا محض خدا کے اختیار میں ہے۔نبوت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے۔خلافت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے، امارت سے بھی حسد پیدا ہوتا ہے دین کے ہر شعبہ میں حسد کارفرمائی کرتا ہوا دکھائی دے گا یا اپناز ہرگھولتا ہوا دکھائی دے گا۔اگر کوئی انسان یہ محسوس کرے کہ فلاں شخص دین کے کسی مقام میں مجھ سے بہتر نظر آ رہا ہے۔تو انسانی زندگی کا کوئی ایک بھی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں آپ کو حسد کا وجود دکھائی نہ دیتا ہو، جہاں آپ کہہ سکتے ہوں کہ یہاں حسد کا کوئی کام نہیں ہے اور باوجود اس کے کہ اس کثرت کے ساتھ ملنے والا جذ بہ ہے، جتنا یہ جذ بہ خفی رہتا ہے اور چھپ کر حملہ کرتا ہے اتنا شاید ہی دنیا میں کوئی اور جذ بہ چھپ کے حملے کرتا ہو۔سب سے زیادہ پائی جانے والی بدی جس نے نہ خشکی کو چھوڑا نہ تری کو چھوڑا نہ دنیا کو چھوڑا نہ دین کو چھوڑا اور سب سے زیادہ مخفی رہنے والی بدی ہے۔اسی کے نتیجہ میں وہ خناس پیدا ہوتا ہے جس کا قرآن کریم کی آخری سورۃ میں ذکر ہے اور اسی لئے سورۃ الناس سے پہلے سورہ الفلق کی آخری آیت وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (فلق :۶) کے کے مضمون سے متنبہ کر رہی ہے اور یہ دعا سکھاتی ہے کہ اے اللہ تعالیٰ اے ہمارے خدا