خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 736

خطبات طاہر جلد۵ 736 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء ابتدائی تعلیم کے لئے۔یہ بہت ہی اہم کام ہے جو خاص طور پر جرمنی میں سامنے آیا۔جب میں ملاقاتیں کرتا رہا ہوں یا گفت و شنید کرتارہا ہوں تو صرف حال احوال پوچھنا تو مقصد نہیں تھا کہ انہوں نے میرا حال پوچھ لیا اور میں نے ان کا حال پوچھ لیا۔ان کے تمدنی حالات پوچھتا رہا ہوں ، مسائل پوچھتا رہا ہوں اور دینی حالت کے متعلق تو کچھ شکلیں بتا دیتی تھیں اور کچھ سوالات کے بعد چیزیں سامنے آجاتی تھیں۔ایک چیز جو افسوسناک سامنے آئی وہ یہ تھی کہ نو جوانوں میں جہاں اخلاص کا معیار بلند ہے وہاں علم کا معیار بہت کم ہے۔بعض صورتوں میں تو بعض احمدی نوجوانوں کو نماز کا ترجمہ نہیں آتا تھا، وہ گھر سے سیکھ کر ہی نہیں چلے۔بہت سے ایسے احمدی نوجوان بھی دیکھے جو وہاں نظر بھی کبھی نہیں آتے تھے اور یہاں آنے کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ جماعت کے ساتھ منسلک ہو گئے اور انہوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے کہ اب جو چاہو ہم سے کرو اور جس طرح چاہو ہمیں اچھا بنا دو۔پہلے وہ اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے تھے اور جو لوگ ان کے پاس جاتے تھے وہ ان سے دور بھاگتے تھے۔ایسا عنصر خاص طور پر جو وہاں بھی جماعت کی نظر سے الگ رہا اور جماعتی تربیت کے ہاتھ سے پیچھے ہٹتا رہا ہے وہ یہاں آکر بھی جماعت سے متعلق تو ہو گیا لیکن علمی لحاظ سے اور تربیتی لحاظ سے اسی طرح ابھی پیچھے ہے اور خطرہ یہ ہے کہ ان کا اخلاص اور ان کا تعلق ضائع نہ ہو جائے یا نقصان کا موجب نہ بن جائے۔ضائع تو ان معنوں میں ہو سکتا ہے کہ یہ اب اپنے آپ کو پیش کر رہے، تعلق بڑھا رہے ہیں اور ان کو سلجھانے کے لئے ان کے اخلاق درست کرنے کے لئے ان کی اعلیٰ تربیت کے لئے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔اتنا اچھا موقع اللہ تعالیٰ مہیا کرے اور جماعت اس موقع سے استفادہ کرنے سے غافل رہ جائے یہ بہت ہی بڑا نقصان ہے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے جوتعلق قائم کیا ہے اگر ان کے اخلاق وہی رہے اگر ان کا علمی معیار اور تربیتی معیار وہی رہا تو مقامی دوست خصوصیت کے ساتھ ان کو اسلام کا ایمبیسڈر، اسلام کا سفیر سمجھتے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے اور پاکستانی احمدیوں کے معیار کو اس طرح جانچ رہے ہوں گے اور واقعہ یہی ہوا بھی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دو جرمن دوستوں نے بڑی تفصیل سے کھل کر مجھ سے گفتگو کی اس دن بڑا اچھا موقع تھا۔ان میں سے ایک دوست ہمارے ساتھ سیر پر جاتے رہے۔سیر کے دوران ان سے بات کرنے کا ان سے بڑی لمبی گفتگو ہوئی۔تو