خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 734 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 734

خطبات طاہر جلد۵ 734 خطبہ جمعہ کے نومبر ۱۹۸۶ء دھاگوں کو الگ الگ کرنا پڑے گا۔مقامی تمدن کے سیاہ دھاگوں کو اسلام کے تمدن کے سفید دھاگوں سے الگ کرنا پڑے کا اور قوموں کو یہ پیغام دنیا پڑے گا کہ جہاں تک اسلامی تمدن کا تعلق ہے یہ وہ خطوط ہیں جن سے تم تجاوز نہیں کر سکتے۔جن راہوں سے ہٹو گے تو اسلام کی راہوں سے ہٹو گے اور یہ وہ خطوط ہیں جن میں تمہیں اختیار ہے لیکن عمومی اسلامی ہدایات کے تابع رہ کر اپنے لئے تمدن کی راہیں تلاش کرو یا مقامی تمدن میں سے اچھی چیزیں اخذ کر لو۔پاکستانی احمد یوں کو بھی اپنے تمدن میں اسی حد تک تبدیلی پیدا کرنی چاہئے جس حد تک اسلام اجازت دیتا ہے یا جس حد تک دوسری قوم کو اپنے اندر شامل کرنے کے لئے ان کی خاطر کچھ تمدنی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جے Give and Take کہا جاتا ہے۔اگر آپ حکمت کے ساتھ بالغ نظر کے ساتھ آپ دونوں سوسائٹیوں کی بری باتیں چھوڑ دیں اور ان کی اچھی باتیں اختیار کرلیں دونوں سوسائٹیوں کی اور اسلام کے تمدن کی روح کو غالب رکھیں تو اس پہلو سے جو بھی تمدن دنیا میں احمدی تمدن کے نام پر پیدا ہو گا اس میں ایک تو امتزاج پایا جائے گا، دوسرے اسلامی تمدن کے پہلو کے لحاظ سے ایک عالمی قدر مشترک پائی جائے گی اور وہی ملت واحدہ بنانے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ایک بھاری حصہ تمدن کا ایسا ہے جو مذہب سے اثر انداز ہوا ہوتا ہے اور اس حصہ کی حفاظت کرنا اور اسے نکھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنا یہ نہایت ہی اہم ضرورت ہے وقت کی جس کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ورنہ جیسا کہ یہاں گزشتہ تجربہ نے بتایا کہ محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں بہت سے خاندان ایک رستہ سے آئے اور دوسرے رستہ سے چلے گئے۔محض اس توجہ کے فقدان کے نتیجہ میں جو مخلص تھے ان کے ایمان داغدار ہونے لگے، ان کے دل افسردہ ہونے لگے وہ مایوس ہونے شروع ہوئے کہ ہم کس ویرانہ میں چلے آئے ہیں۔جن لوگوں نے ہمیں خدا کی طرف بلایا تھاوہ خدا کا نمائندہ بن کر ہمیں چھاتی سے لگانے والے ثابت نہیں ہوئے بلکہ تنہا دنیا میں چھوڑ دیا ہے یہ کہہ کر کہ تم اپنے تمدن سے باغی ہو جاؤ اور ہم تمہارے لئے کوئی تمدن پیش نہیں کر سکتے تم اپنے تعلقات تو ڑ لو ہم تمہارے لئے کوئی متبادل تعلقات مہیا نہیں کر سکتے تم اردو سیکھو لیکن ہم انگریزی نہیں سیکھیں گے، ہم جب بات کریں گے پنجابی یا اردو میں کریں گے ، خواہ تم بیٹھے رہو تمہاری طرف کوئی متوجہ نہیں ہوں گے اور جب بھی ہم آپس میں ملیں گے تم سرکتے سرکتے ایک طرف کو نہ میں لگ جایا کرو گے اور ہم اپنی اجتماعی شکل