خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد۵ 68 خطبہ جمعہ ۷ ارجنوری ۱۹۸۶ء لئے انسان کے پاس کوئی تو جبہ نہ ہو۔حضرت رسول کریم ﷺ کا لعاب دہن سے کسی کو شفا بخش دینا، ہاتھ لگا کر پانی کو بڑھا دینا یا اپنے دست مبارک کی برکت سے خوراک کو بڑھا دینا۔یہ سارے ایسے واقعات ہیں جن کو بعض لوگ غلط رنگ میں استعمال کرنے لگے اور دم درود جس کو ہم کہتے ہیں یہ رسمیں مسلمانوں میں جاری ہوئیں اور یہ سمجھنے لگے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ آیات پر پھونکیں مار کے یا اپنے تھوک سے براہ راست لوگوں کو اچھا کر سکتے ہیں۔یہ میں بات واضح کرنا چاہتا ہوں آج کہ یہ تفہیم بالکل غلط ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اقتداری نشانات کے ظہور کے لئے انسان کے اندر ایک ایسی تبدیلی ہونی چاہئے جو مافوق العادت ہو۔عام انسانوں سے مختلف تبدیلی جب تک انسان کے اندر پیدا نہ ہو خدا تعالیٰ اس شخص کو اقتداری نشان دکھایا نہیں کرتا۔محض اس لئے کہ آنحضرت مے کے لعاب میں یہ برکت تھی اگر ہر کس و ناکس اٹھ کر اپنے لعاب سے لوگوں کو شفاء کا دعویٰ کرنے لگے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔لعاب میں یہ اقتداری نشان صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے اگر انسان خدا کی خاطر اپنے اندر مافوق العادت تبدیلی پیدا کرے اور اس کے اپنے وجود میں ایک اقتداری تبدیلی واقع ہو چکی ہو جو عام انسانوں سے ہٹ کر ہو۔جب یہ واقعہ ہو تو پھر ایسے لوگوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بکثرت اقتداری نشان ظاہر فرماتا ہے اور یہ بات صرف انبیاء کیلئے خاص نہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے صحابہ کو بھی یہ برکت دی گئی تھی اور ہم ایسے واقعات احادیث میں پڑھتے ہیں کہ آپ کے صحابہ کے ہاتھوں بھی اللہ تعالیٰ نے اقتداری نشانات ظاہر فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ برکت دی گئی اور آپ کے صحابہ کے ذریعہ بھی ہمیں علم ہے خدا تعالیٰ نے اقتداری نشان ظاہر فرمائے اس لئے جب ان نشانات کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی کنہ تک پہنچنا ضروری ہے ان کو سمجھے بغیر ان سے صحیح معنوں میں آپ لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔اقتدار سے مراد یہ ہے کہ عام تقدیر سے ہٹ کر ایک غیر معمولی تقدیر الہی ظاہر ہو جو عام تقدیر پر غالب آ جائے۔یہ کن لوگوں کو عطا ہوتی ہے ؟ انہی لوگوں کو جو عام سلوک سے ہٹ کر اپنے رب سے ایک ایسا سلوک کرتے ہیں جو عام انسانی سلوک پر غالب آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ایک