خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 719
خطبات طاہر جلد۵ 719 خطبه جمعه ۳۱ را کتوبر ۱۹۸۶ء کے مختلف دفاتر کی طرف سے ان سب کو پڑھنے کا نہ یہاں وقت ہے نہ عموماً دوست کوائف کی زبان کو پوری اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔نتیجہ اگر وہ کوائف پڑھنے شروع کر دیئے جائیں تو سننے والوں کو نیند آنی شروع ہو جاتی ہے اور کوائف پڑھ کر سنانے کا مقصد یہ نہیں کہ نیند آ جائے بلکہ یہ مقصد ہوا کرتا ہے کہ جاگیں اور ہوشیار ہوں اور سمجھیں کہ کیا وہ کر چکے ہیں اور آئندہ انہیں کیا کرنا ہے۔اس لئے میری کوشش یہی ہوگی کہ چیدہ چیدہ ایسے کوائف آپ کے سامنے رکھوں جو سلانے کی بجائے جگانے کا کام دیں۔سال گذشتہ 51 واں سال ، جو موجودہ سال گزر رہا ہے آج اس سے پہلے کا سال تھا۔اس میں کل وعدہ جات پاکستان کی طرف سے 44,20,000 روپے کے موصول ہوئے تھے اور 52 ویں سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بڑھ کہ 55,64,000 روپے کے وعدے بن گئے گویا فیصد اضافہ 26 فیصد ہوا۔پاکستان کے موجودہ حالات میں جماعت جس قسم کی مشکلات کا شکار ہے اس میں اقتصادی مشکلات بھی بہت نمایاں طور پر کر سامنے آرہی ہیں۔بے وجہ احمدی ہونے کے جرم میں نوکریوں سے نکالے جانا ، با وجود اول حق رکھنے کے نوکریاں نہ دلوانا ، تجارتوں میں نقصانات اور دیگر کئی قسم کی مخالفانہ کوششیں جو اقتصادیات پر برا اثر ڈالتی ہیں مثلاً بعض دکانوں کے بائیکاٹ بعض تجارتوں کے بائیکاٹ ان سب باتوں کے باوجود مسلسل خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ پاکستان کی قربانی کا قدم آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ایک ہی سال میں 26 فیصد اضافے کے ساتھ وعدہ جات پیش کرنا خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ممکن نہیں۔وصولی کی رفتار کے متعلق بھی وہاں کی اطلاع یہی ہے کہ ہم امید یہ رکھ رہے ہیں کہ انشاء اللہ جب سب کو ائف اکٹھے ہو جائیں گے کیونکہ آخری دن تک سب جماعتوں کی طرف سے اطلاعیں نہیں ملا کرتیں۔تو ان کی توقع یہ ہے کہ وعدوں سے بھی انشاء اللہ وصولی آگے بڑھ جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید لگا رہے ہیں گزشتہ سال کی تدریجی آمد سے موازنہ کر کے کہ اگر چہ وعدے تو پچپن لاکھ کچھ کے ہیں لیکن توقع یہی ہے کہ وصولی انشاءاللہ ساٹھ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔وعدوں میں جن جماعتوں نے نمایاں قربانی کا نمونہ دکھایا ہے اور خدا کے فضل سے بہت نمایاں طور پر آگے قدم بڑھایا ہے ان میں کراچی، ملتان، ساہیوال، پشاور اور راولپنڈی اور بہاولنگر کا