خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد۵ 712 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء اس صورت میں جن لوگوں کے گھروں کے امن بر باد ہیں وہ یہ دعوی نہیں کر سکتے۔اگر آپ سوسائٹی کے تعلقات میں، اگر آپ Citizen Ship یعنی شہریت کے تعلقات میں اس آیت کا مصداق نہیں تو پھر آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے سوا دنیا میں اور بھی کوئی نہیں کیونکہ اسلام کے از سرنو احیاء کا دعویٰ لے کر اٹھنے والی جماعت آج آپ کے سوا اور کوئی جماعت نہیں ہے جو اپنے اس دعویٰ میں سچی ہے اور اس دعویٰ میں خالص ہے اور اس دعویٰ میں انتہائی مخلص ہے۔پس اگر اس دعوے کے باوجود اور اس سچے دعوی کے باوجود، اس مخلصانہ دعوے کے باوجود عمل کی زندگی میں یہ دعویٰ ڈھلتا ہوا نظر نہ آیا تو پھر مستقبل میں اسلام کی فتح کے گیت گانے کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں۔پھر آگے بڑھیں اگر آپ بین الاقوامی تعلقات میں مثلاً یہاں جب جرمنی میں جاتے ہیں یا امریکہ میں جاتے ہیں یا کینیڈا میں جا کر بستے ہیں بہترین اسلام کے نمائندہ ثابت نہیں ہوتے اگر آپ اپنے بین الاقوامی تعلقات میں ان سوسائٹیوں کے لئے امن مہیا نہیں کرتے جن سے آپ رابطے میں آتے ہیں اور ان کی بدامنی کو قبول کر لیتے ہیں ، ان کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں ، اپنا امن کا رنگ ان کو دینے میں ناکام رہتے ہیں تو ان معنوں میں بھی آپ نے اسلام کو نا کام کر کے دکھایا ہے نہ یہ کہ اس کی کامیابی کا ثبوت دنیا کو مہیا کیا۔پس یہ جو دنیا میں نظریات کی جنگیں ہو رہی ہیں یا آئندہ دنیا کے نقشوں کی باتیں ہو رہی ہیں اس میں فتح وشکست کا فیصلہ نظریات کی دنیا میں نہیں ہو گا عمل کی دنیا میں ہوگا اور عمل کی دنیا میں خواہ ایک جماعت چھوٹی بھی ہو اگر وہ اسلام کے نظریات کو اپنے اعمال کی دنیا میں ڈھال لے گی، اگر اسلام صرف قرآن کا اسلام نہیں رہے گا یا نام کا اسلام نہیں رہے گا بلکہ کسی جماعت کے اندر راسخ اور رائج ہو جائے گا اس کے خون میں گھل مل جائے گا، اس کے اعمال میں ڈھل جائے گا ، اس کی صورتوں سے ظاہر ہونے لگے گا۔اگر خود اس جماعت کو امن نصیب ہوا اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی تو پھر یقیناً ایسی جماعت إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصّلحت کے استثناء کے تابع دنیا میں بالآخر برومند اور فتح مند ہونے والی جماعت ثابت ہوگی اور اگر خدانخواستہ ایسا واقعہ نہ ہو تو قرآن تو بہر حال سچا نکلے گا مگر وہ جماعتیں ضرور مٹادی جائیں گی اور ان کی جگہ خدا اور جماعتیں لے آئے گا جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے قرآن کی سچائی کو بہر حال دنیا میں ثابت کرنا ہے۔