خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 703
خطبات طاہر جلد ۵ 703 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء - تلاش میں انسان ایسی ایسی جاہلانہ حرکتیں کر رہا ہے کہ وہ بالآخر ایک قومی خودکشی پر منتج ہوسکتی ہیں ۔ Drug's Trafficking کا نام جو سنا ہے آپ نے بارہا اس کے پس منظر میں یہی بدامنی ہے۔ اس قدر تیزی کے ساتھ انسانی زندگی کا امن برباد ہو رہا ہے کہ انسان مصنوعی ذرائع سے امن پیدا کرنا چاہتا ہے حالات کو بھلا کر ۔ جس طرح کبوتر بلی کے سامنے آنکھیں بند کر کے ایک قسم کا امن حاصل کرتا ہے اسی طرح آج کا باشعور انسان جو کہتا ہے کہ میں بلوغت کے مقام کو پہنچ چکا ہوں اور اب امجھے کسی بیرونی تعلیم کی ضرورت نہیں کسی بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں جو مجھے سمجھائے اور قدم قدم چلائے اس انسان کا یہ حال ہے کہ ایک جانور کبوتر کی طرح جس کی مثال بے وقوفی کی دی جاتی ہے اس طرح آنکھیں بند کر کے حالات سے امن حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پس Drug Trafficking کا اس کے سوا اور کوئی ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ میں حقیقت یہ ہے کہ اس طرح تیزی کے ساتھ جو رب ہا ارب رو پیدا ایسے نشوں میں ضائع کیا جا رہا ہے جس کو آج کل ڈرگ کا نام دے رہے ہیں ویسے تو ڈرگ ہر دوائی کو کہتے ہیں لیکن یہاں صطلاحی ڈرگ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں ارب ہارب روپیہ ضائع کیا جارہا ہے اور ہزاروں جانیں تلف ہوتی ہیں ہر سال اس جرم کے نتیجہ میں اور دن بدن یہ زیادہ شدت کے ساتھ پھیلتا چلا جا رہا ہے، دن بدن زیادہ گہرائی کے ساتھ انسانی زندگی میں اتر تا چلا جارہا ہے اور بڑی بڑی قو میں جوعظیم الشان طاقتیں رکھتی ہیں وہ بھی اپنے سارے ذرائع کو بروئے کار لا کر اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں ۔ بنیادی وجہ کیا ہے؟ بنیادی وجہ وہی اندرونی بدامنی ہے جس کا انسان دن بدن زیادہ سے زیادہ شکار ہوتا چلا جا رہا ہے اور آج یہ جس کیفیت کو پہنچ چکا ہے یہ کیفیت بر ملا اس بات کا اقرار کر رہی ہے ۔ وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ وہ زمانہ جس کی پیشگوئی کی گئی تھی کہ اسلام کو چھوڑ نے کے لازماً گا یہ وہ نتیجہ میں وہ لازماً آئے گا اور آخر کار انسان دیکھ لے گا کہ وہ گھاٹے میں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جو پہنچ چکا ہے اور دن بدن اس کے بدامنی کے آثار زیادہ ظاہر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اندرونی امن کی بربادی کو جانچنے کے لئے اور بھی ذرائع ہیں۔ خاندانی تعلقات آج کس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔ خاندانی تعلقات کے نتیجہ میں انسان کس حد تک لذت یا سکینت پا رہا ہے یا طمانیت قلب حاصل کر رہا ہے؟ عام معاشرتی کیفیت میں انسان کے انسان سے روزمرہ کے تعلقات