خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد۵ 702 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء ہیں کہ ہمارے پاؤں کے نیچے کوئی معمولی سا کیڑا بھی نہ آجائے۔لیکن جب ان کے مفادات دوسرے انسانوں کے مفادات سے ٹکراتے ہیں تو ایسے ظالم ہو جاتے ہیں کہ اس کی بھی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔سیلون میں آج جو ظلم و تشدد ہورہا ہے بعض حصوں پر اس میں یہ بحث نہیں ہے کہ حق پر کون ہے یا کون نہیں ہے۔یہ فیصلہ جب تک کوائف سامنے نہ ہوں انسان نہیں کر سکتا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ظلم کا آغاز کس طرف سے شروع ہوا تھا لیکن یہ بہر حال کہا جا سکتا ہے کہ ظلم کے نتیجہ میں ، ایک ظلم کے نتیجہ میں بدھ مذہب نے جو لائحہ عمل تجویز کیا تھا وہ لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جارہا۔جو رد عمل ہونا چاہئے تھا ایک بدھ سوسائٹی کا وہ رد عمل ظاہر نہیں ہورہا اور یہ بات صرف سیلون تک محدود نہیں پچھلی عالمی جنگ میں جتنی بدھ اقوام ہیں ان سب نے بدھ ازم کو بالائے طاق رکھ کر کلیۂ وہی مسلک اختیار کیا جو سادہ حیوانی قدریں ان کے لئے تجویز کر رہی تھیں۔عیسائی دنیا کو دیکھ لیجئے جنگوں کے دوران اور آزمائشوں کے دوران جب بھی ان کے مفادات سے عیسائیت کی تعلیم ٹکرائی تو انہوں نے عیسائیت کی تعلیم کو اس طرح اٹھا کر پھینک دیا جس طرح ردی کی ٹوکری میں کوئی گندا کاغذ پھینک دیا جاتا ہے۔ایک ذرہ بھر بھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ایک طرف اگر ان کے منہ پر چپیڑ ماری گئی تو انہوں نے ہزار چپیڑ میں اس کے مقابل پر ماریں کجا یہ کہ اپنے چہرے کا دوسرا حصہ اس کے سامنے پیش کر دیتے کہ آؤ اور اس پر بھی تھپڑ مار لو یہ تو عمومی رحجانات ہیں قومی سطح کے او پر لیکن انفرادی سطح پر بھی بالکل یہی آزادی کا عالم ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام یا عالم اسلام میں ہمیں وہ Peace نظر آ رہی ہے یا وه Submission نظر آ رہی ہے جس کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف اسلام میں ملے گی اور غیر مذاہب میں نہیں ملے گی۔لیکن اس مضمون پر آنے سے پہلے اس آیت کے مضمون کا تھوڑا سا مزید جائزہ لیا جائے کہ کیا نقشہ ابھر رہا ہے دنیا میں اس آیت کی روشنی میں۔دوسرا پہلو ہے امن۔امن کا تعلق اندرونی زندگی سے بھی ہے اور بیرونی زندگی سے بھی ہے۔آج انسان کا امن جس طرح اندرونی طور پر برباد ہوا ہے اس سے پہلے کوئی ایسا زمانہ آپ نہیں دیکھیں گے جہاں عالمی سطح پر آپ یہ اعلان کر سکیں کہ امن کلیۂ اٹھ چکا ہے۔ہر گھر میں بدامنی ہو چکی ہے ، ہر روح بے قرار ہوگئی ہے اور امن کی