خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 701
خطبات طاہر جلد۵ 701 خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۸۶ء چلی جارہی ہے۔پہلے اس کا آغاز خدا کی اتھارٹی یعنی خدا کی حاکمیت کے انکار سے شروع ہوا اور زمانہ رفته رفته آزادی کی طرف مائل ہوا یعنی خدا تعالیٰ نے جو پابندیاں انسان پر لگائی تھیں معاشرتی ،تمدنی اور اخلاقی ان سے انسان آزاد ہونا شروع ہوا اور دنیا کا کوئی دین ایسا نہیں جس نے انسان کو سنبھال لیا ہو، کوئی دین بھی ایسا نہیں جس نے آزادی کا رخ موڑ دیا ہو۔نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ مغربی تہذیب جسے آپ کہتے ہیں یا مشرقی تہذیب جہاں جہاں بھی جو بھی تہذیب شکلیں اختیار کر رہی ہے ان دونوں میں قدر مشترک یہ بن گئی ہے کہ انسان اپنے ہر معاملے میں اب آزاد بلکہ مادر پدر آزاد ہو چکا ہے، جو چاہے وہ کرتا پھرے اس کے لئے کوئی روک نہیں ، جو اس کی خواہش ہے جس طرح وہ پوری کر سکتا ہے کرتا چلا جائے ، اس پر کوئی پابندی نہیں۔جو تہذیبیں مذہب کے نام پر جاری ہیں ان کا بھی یہی حال ہے اور جو مذہب سے بیگا نہ ہو کر کلیپ بغاوت کر چکی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے اور یہ جو آج کل انسان کے رہن سہن کا اسلوب دکھائی دے رہا ہے وہ صرف مغرب میں ہی آزاد نہیں ہے بلکہ مشرق کا بھی آزاد ہو چکا ہے۔بدھ ازم میں بھی آزاد ہو چکا ہے ہندو ازم میں بھی آزاد ہو چکا ہے، زرتشتی ازم میں بھی آزاد ہو چکا ہے اور اگر آپ تفصیل سے جائزہ لینا چاہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جو بدھ ، بدھ کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں بظاہر اپنے روز مرہ کی زندگی میں اس تعلیم کو مداخلت نہیں کرنے دیتے۔جہاں بھی ان کے مفادات بدھ کی تعلیم سے ٹکراتے ہیں وہ بدھ کی تعلیم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں۔وہاں تک بدھ ازم چل رہا ہے جہاں تک بدھ ازم ان کی اپنی مرضی کے مطابق ان کے ساتھ ساتھ قدم بڑھا رہا ہے۔جہاں وہ انہیں رستہ بدلنے پر مجبور کرے وہ اسے دھکا دے کر کہتے ہیں تو اپنے رستے پر چلو ہمارا رستہ وہی ہے جو ہم اپنی مرضی کے مطابق اختیار کریں گے۔سیلون (سری لنکا ) میں دیکھ لیجئے بدھ ازم آج کس شکل میں ظاہر ہو رہا ہے۔وہ مذہب جو کامل طور پر انسان کو دنیا کی لذتوں، دنیا کی خواہشوں سے اس طرح ہٹ جانے کی تعلیم دیتا تھا اور کامل طور پر بے ضرر ہونے کی ایسی تعلیم دیتا تھا کہ ایک ذرہ بھی، ایک شوشہ بھی تمہارے طرف سے کسی کوزد نہ پہنچے، ضرر نہ پہنچے۔جانور کے لئے بھی احساسات رکھو اس کو بھی دیکھ نہ دو۔بدھ ازم میں یہ تعلیم اس درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہے کہ بعض لوگ جو انتہا پسند ہیں وہ قدم بھی پھونک پھونک کر رکھنے والے