خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد۵ 693 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء صاحب کی والدہ تھیں۔ان کے متعلق بھی اطلاع ملی ہے کہ وفات پاگئی ہیں۔ان کو کینسر تھا اور اسی حالت میں ان کے بیٹے نے بڑے اخلاص کا ثبوت دیا جب ان کی ضرورت امریکہ میں تقرری کی تو انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں میری والدہ بیمار تو ہیں اور بیماری بھی خطرناک ہے لیکن سلسلہ کی خدمت کو ترجیح دیتا ہوں۔یہ مطلب نہیں تھا کہ والدہ کی خدمت پر ترجیح دے رہے ہیں، مراد یہ تھی کہ خدمت کرنے والے موجود ہیں جذباتی لحاظ سے جو مجھے تکلیف پہنچے گی میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ، اور سلسلہ مجھے بے شک خدمت کے لئے بھجوا دے۔چنانچہ ان کی عدم موجودگی میں ہی والدہ کی وفات ہوئی۔ان دونوں کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔پچھلے جمعہ میں نے ایک اعلان کیا تھا اس کی تصحیح ضروری ہے اور اس سلسلہ میں ایک تنبیہ بھی ضروری ہے۔ایک اعلان میں میں نے یہ کہا تھا کہ ایک احمدی نوجوان جو یہاں قید میں تھے وہ قتل کر دیئے گئے اس لئے ان کی نماز جنازہ غائب میں بعد میں شام کو پڑھاؤں گا۔افسوس ہے کہ یہ خبر جو ان کے ایک بیٹے نے دی تھی غلط تھی اور وہ قتل نہیں کئے گئے۔بلکہ آخری فیصلہ عدالت میں ہوگا قانونی لحاظ سے جو بھی ہو گا اس وقت تک جو بھی قطعی خبریں ملی ہیں اور پولیس نے اور جیل والوں نے جو بیان دیا ہے وہ خود کشی کا کیس تھا اور میں تحقیق کروارہا ہوں۔اس وقت تک جو کوائف سامنے آئے ہیں جس نے مجھے اطلاع دی تھی اس نے عمد أغلط بیانی سے کام لیا اور اپنے بھائی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔خدا تعالیٰ ستار ہے۔پردہ ضرور ڈالنا چاہئے مگر جھوٹ کا پردہ تو نہیں ڈالنا چاہئے۔ضرورت ہی نہیں تھی۔ایسے بچے کی بے چارہ قابلِ رحم حالت ہے اس کی اس میں کوئی شک نہیں پتہ نہیں کس تکلیف میں خود کشی کی ہے۔پاگل تھا تو اللہ تعالیٰ مغفرت فرما سکتا ہے۔ضروری تو نہیں کہ جھوٹ بول کے جنازہ پڑھوایا جائے۔خاندان کی جو قابل رحم حالت ہے اس سے بھی انکار نہیں۔لیکن پردہ پوشی اس رنگ میں ہوسکتی تھی کہ میں ذکر ہی نہ کرتا اور یہ بات جماعت کی سامنے آتی ہی نہ۔خلیفہ وقت کو جھوٹی خبر دینا ایک بہت ہی خطرناک غلطی ہے اور میں جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس خبر کو اگر خطبوں میں استعمال کر لیا جائے یا جماعت کی تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس جھوٹ کی ذمہ داری اطلاع دینے والے پر ہوگی مجھ پر نہیں ہوگی ، نہ آئندہ کسی خلیفہ پر ہوگی۔جہاں تک عام طور پر طریق ہے، بعض تحقیق طلب باتوں کی تحقیق کی جاتی ہے مگر پھر بھی احمدیوں پر حسن ظن