خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد۵ 692 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء کے طور پر ان معنوں میں ماں باپ کہ وہ ان کو ماں کا پیار بھی دینے والے ہوں اور باپ کی نگرانی بھی کرنے والے ہوں۔جماعت ان کو ایسے بزرگ مہیا کر دے گی۔ایک چھوٹا سا گھر کرایہ پر لے لیا جائے گا یا اگر توفیق ہے تو خرید لیا جائے گا اور جتنے یتامی کو وہاں پالا جا سکتا ہو وہاں ان کے لئے حکومت سے پیش کش کر کے ، حکومت سے گفت و شنید کر کے فیصلہ کریں اور مطلع کریں کہ ہم خدا کے فضل سے اتنے یتامی کی پرورش کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔خدا نے یہ جو نیکی کی ایک اور راہ دکھا دی ہے یہ جواب ہے ربوہ کے اس گندے جلسہ کی گندی گالیوں کا۔اس لئے ان لوگوں نے تو ہارنا ہی ہارنا ہے۔ان کے پہلے سوائے گند کے ہے کچھ نہیں اور جتنا زیادہ گند بولتے ہیں ہمیں اور زیادہ حسین بناتے چلے جارہے ہیں اور زیادہ ہمیں نیکی کی را ہیں دکھاتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے لازماً قرآن کریم کے فیصلے کے مطابق احمدیت جیتے گی، اس کے مقدر میں شکست ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ آپ کی نظر حسن پر ہے اور دائمی حسن پر پڑی ہوئی ہے۔ہمیشہ اپنے نظریات کو بھی حسین تر اور اعمال کو بھی حسین تر بنانے کی کوشش میں آپ مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں نصرت عطا فرما رہا ہے اور آئندہ بھی فرما تا چلا جائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج دو جنازہ غائب کا اعلان کرنا ہے اور یہ دونوں خصوصاً پہلا اس نوعیت کا جنازہ ہے کہ جسے میں اپنے ایک طبعی جوش کے ساتھ خود پڑھنے کی تمنا رکھتا ہوں۔بابو قاسم دین صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور سابق امیر جماعت ضلع سیالکوٹ۔سیالکوٹ کے بہت پرانے بزرگ تھے۔ہمیشہ بڑی وفا کے ساتھ ہر حالت میں انہوں نے جماعت کے ساتھ بہت اخلاص اور غلامانہ وابستگی کا تعلق رکھا ہے۔بہت ہی منکسر المزاج، نیک ، بزرگ ، دعا گو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچی خبریں پانے والے تھے۔اپنے خاندان پر بھی ان کا بہت ہی اچھا اثر پڑا ہے۔بہت سے حصے ان کے خاندان کے ایسے تھے جو ویسے جماعت سے اتنے متعلق نہ ہوتے مگر ان کے خاص اثر سے ، خاص تعلق کی بناء پر اخلاص میں آگے بڑھے۔ان کی عمر 90 سال سے اوپر تھی لیکن ہوش قائم تھے اور چلتے پھرتے تھے۔صحت کمزور تو ہو گئی تھی لیکن ویسے سارے دینی اور دنیاوی فرائض ادا کرنے والے تھے۔دوسرا جنازہ ہے مکر مہ رحمت خاتون صاحبہ کا۔یہ ہمارے ایک مخلص مبلغ سلسلہ عبدالرشید یحیی