خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 691
خطبات طاہر جلد۵ 691 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء دار مضمون قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں وہاں یتامی کی کفالت کا مضمون بھی شامل ہے۔اتنا زور ہے اس پر کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہمیں جو حق ادا کرنا چاہئے تھا اس کا بہت کم حصہ ابھی تک ہم ادا کر سکے ہیں۔چنانچہ اس سلسلہ میں میں نے ایک یتیم خانے کے متعلق ہدایت دی تھی جو خدا کے فضل سے مکمل بھی ہو چکا ہے۔ایک اور وسیع یتیم خانہ ربوہ میں بنانے کا پروگرام ہے انشاء اللہ اور اگر ربوہ کا ماحول سازگار نہ ہو تو کسی اور ملک میں بنالیں گے۔یتامیٰ کی جو ضرورت تو عالمگیر ہے۔ضروری نہیں کہ مرکز احمدیت میں ہی ہو۔افریقہ کے ممالک میں بھی ہو سکتے ہیں، دوسری جگہ میں بھی ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ایک مخلص احمدی دوست نے تمہیں چالیس لاکھ روپے کی پیشکش کی ہے کہ میری طرف سے ایک نہایت اعلیٰ یتیم خانہ اپنی مرضی کا بنوالیں۔وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ بنے گا لیکن جن گھروں کو توفیق ہو وہ گھر اپنے آپ کو پیش کریں کہ ہم ایک یتیم ایلسلو اڈور کا پالنے کے لئے تیار ہیں اور اگر تربیتی مشکلات پیش نظر ہوں گھر کے ماحول پر ایسے بچوں کے بداثر پڑنے کا خطرہ ہو جو بالکل غیر اسلامی ماحول سے آرہے ہیں جن کی تربیت اور طرح سے ہوئی ہے تو اس سلسلہ میں جماعت یہ بھی کر سکتی ہے کہ اجتماعی طور پر یتیم خانے کا انتظام کرے۔ہم اسلام آباد کو بھی اس ضمن میں استعمال کر سکتے ہیں۔صرف انگلستان کی جماعت کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسری جماعتوں کی طرف سے بھی۔مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ انگلستان کے بعض خاندان یہ ذمہ داری قبول کر سکیں کہ ہم یتیم کو پالیں گے بھی اور بہترین تربیت بھی کریں گے اور تعلیم بھی اعلیٰ دیں گے اور بعض سمجھیں کہ ہم یہ تو نہیں کر سکتے مگر ایک گھر ایک یتیم کا خرچ دینے کے لئے تیار ہیں۔یا ایک جگہ کے دس گھر مل کر یتیم کا خرچ دینے کے لئے تیار ہیں، وہ خرچ کیا ہوگا؟ یہ جماعت فیصلہ کر کے بتائے گی پھر۔ایسی صورت میں ہم اسلام آباد میں پچاس یا سویتامی کے لئے انتظام کر سکتے ہیں۔انگلستان کی جماعت خواہ انگلستان سے مانگے یا باہر کی جماعتیں اپنے اپنے طور پر مانگیں مگر یہ وضاحت کر کے کہ ان بچوں کو ہم انگلستان میں بھجوائیں گے۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اپنے اپنے ملک میں جماعتی انتظام کے تابع چھوٹے چھوٹے یتیم خانے بنائے جاسکتے ہیں۔ایسی احمدی خواتین ہیں جو اپنی زندگی اس معاملہ میں خوشی کے ساتھ پیش کریں گی۔ایسے بوڑھے بزرگ ہیں جو بڑی خوشی کے ساتھ اس نیک کام میں اپنے آپ کو پیش کریں گے۔کہ وہ ماں باپ