خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 690

خطبات طاہر جلد ۵ 690 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء چونکہ بچوں سے تعلق رکھنے والا مضمون تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی مجھے سمجھائی اور وہ یہ کہ جس نیکی کا فیصلہ کرتے ہیں اس سے ملتا جلتا صدقہ بھی دیا کرتے ہیں، خیرات بھی کیا کرتے ہیں تا کہ اس کام میں برکت پڑے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بچوں پر رحم کا کوئی طریق سوچیں ۔ بچوں سے حسن سلوک کی کوئی راہ سوچیں تا کہ وہ آپ کی طرف سے صدقہ بن جائے اور آپ کے بچوں کی حفاظت کرنے والا ہو جائے۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ ایلسلو اڈور میں جو بڑی تباہی آئی ہے اور سینکڑوں بچے یتیم رہ گئے ہیں یا جو ماں باپ سے الگ ہو چکے ہیں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں اور کہاں چلے گئے ہیں۔ حکومتیں اب ایسے بچوں کو اپنا رہی ہیں اور جماعتی سطح پر تو یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ ہم براہ راست یونائیٹڈ نیشنز سے کہیں کہ ہمیں بھی بچے دیں یا ایلسلواڈور کی حکومت سے کہیں ۔ مگر جس جس حکومت میں احمدی رہتا ہے وہاں وہ اپنی حکومت سے یہ درخواست کر سکتا ہے کہ جماعت احمد یہ اتنے بچوں کو گھر مہیا کرنے کے لئے تیار ہے، والدین مہیا کرنے کے لئے تیار ہے ہتر بیت کی ساری ذمہ داریاں قبول کرنے کے لئے تیار ہے اور جس حد تک بھی توفیق ہے بہترین تعلیم دینے کی ذمہ دار ہے۔ یہ فیصلے ہر ملک میں اپنے طور پر ہو سکتے ہیں پہلے وہ اپنا جائزہ لیں اور پھر اپنے اپنے ذرائع سے وہ حکومت سے رابطہ پیدا کر کے پہلے اپنا جائزہ لیں اور پھر یہ پیشکش کریں کہ ہم اتنے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ یہ جو احسان ہو گا بنی نوع انسان کے بچوں پر یہ آپ کے بچوں کے حق میں ایک صدقہ جاریہ بن جائے گا ۔ آپ کی کوششوں میں اتنی برکت پڑے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے کہ پہلے اگر ایک کے نتیجہ میں دس نعمتیں ملتی تھیں اب ایک کے نتیجہ میں سونعمتیں ملنی شروع ہو جائیں گی ۔ کیونکہ یتامی کے مضمون کو جس طرح قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور اسے جتنی اہمیت قرآن کریم نے دی ہے آپ ساری دنیا کی مذہبی کتابوں سے اس مضمون کے حوالے اکٹھے کر لیں اس کے برابر وزن نہیں ہوگا ۔ یہ بھی ایک مضمون ہے قرآن کریم کے وزن کا فَا مَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ مسلمانوں پر غیر کس طرح غالب آسکتے ہیں ۔ قرآن کریم میں ایک ایک حسن کا مضمون اتنے وزن کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اگر مسلمان اس تعلیم کو اپنے اندر رائج کر لیں تو اس سے زیادہ وزن دار قوم دنیا میں کوئی اور ہو ہی نہیں ہو سکتی ۔ دنیا کی کوئی ہلکی قوم اس کو اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی ۔ پس جو انتہائی وزن