خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 689

خطبات طاہر جلد۵ 689 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء کے ذہن پر اللہ ہی یا در ہتا ہے۔وقت بے وقت وہ اللہ کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں، اور سب سے زیادہ لفظ جوان پر نقش ہو جاتا ہے وہ اللہ ہے۔یہ باتیں اگر بچپن میں ذہنوں میں نقش نہ کی گئیں تو بڑے ہو کر آپ سے نہیں سکھائی جائیں گی۔بڑے ہو کر غیر معاشرہ اتنا غالب آچکا ہوگا ،ایسے رنگ چڑھا چکا ہوگا کہ اس کے بعد پھر اللہ کا رنگ چڑھنا مشکل ہو جائے گا پہلے رنگوں کو مٹانا پڑے گا اور ان رنگوں میں ایسی شدت پائی جاتی ہے، مادہ پرستی کی ایسی سختی پائی جاتی ہے کہ پھر ان کو مٹانا بہت مشکل کام ہو جائے گا۔اس لئے ساری دنیا کی جماعتیں خصوصاً مغربی تہذیب سے متاثر جماعتیں یہ پروگرام بنائیں ، اپنی ساری دماغی صلاحیتوں کو کام میں لائیں ، اپنی قلبی صلاحیتوں کو کام میں لائیں، منصوبہ بندی کریں اور مقصد صرف یہ ہو کہ گھروں میں پاکیزہ ماحول پیدا ہو جائے اور بچے اس ماحول میں پرورش پا کر اٹھیں اور ان کے لئے قرآن کریم کی تلاوت سکھانے کے انتظام بھی موجود ہوں اور قرآن کریم کا ترجمے سکھانے کے بھی انتظام موجود ہوں۔یہ دوڑ ہے مسابقت کی دوڑ جو دو طرح سے ہوگی۔ایک تو یہ کہ جہاں غیر ہم پر حملہ کر کے مزعومہ فتح کے اعلان کرتا پھر رہا ہے کہ یہ فاتح ربوہ آ گیا ہے ، اس نے زیادہ گالیں دی تھیں اس لئے بڑا فاتح یہ بن گیا ہے۔وہاں آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ مغلوب نسلیں پیدا کرنے والے لوگ ہیں ، ان کی اپنی نسلیں ہاتھ سے نکلتی چلی جا رہی ہیں اور غیر اسلامی قدروں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔وہاں آپ پہلے سے بہت زیادہ عزم کے ساتھ مسلمان بچے پیدا کرنے کا عہد کریں جو مسلمانوں کے طور پر بڑے ہو رہے ہوں اور غالب آنے والے مسلمانوں کے طور پر بڑے ہو رہے ہوں۔گھروں میں اگر آپ نے یہ فتح حاصل کر لی تو آپ ایک ایسی نسل پیچھے چھوڑ کر جائیں گے جو دوسروں کے گھروں میں بھی فتح حاصل کر سکے گی۔جو غیر معاشرے پر بھی قبضہ کر سکے گی۔اگر آپ نے گھروں میں یہ میدان چھوڑ دیا اور یہاں اس میدان سے بھاگ گئے تو وہم ہے، مجنون کی خواب ہے کہ آپ دنیا پر غالب آجائیں گے ، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے آپ الٹا نہیں سکتے کہ فَا مَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ كهہ جس کے اعمال میں وزن ہوگا وہی جیتے گا دوسرا ہر گز جیت نہیں سکتا۔وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِینہ ہاں جس کے اعمال ہلکے یعنی بے معنی اور کھو کھلے اور بے وزن ہوں گے اس کے مقدر میں ہاویہ کے سوا اور کچھ نہیں۔