خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 680
خطبات طاہر جلد۵ 680 خطبہ جمعہ ۷ ارا کتوبر ۱۹۸۶ء کے وہ ہتھیار ہیں۔تو یہ ہتھیار ہیں ان کے جن سے جماعت پر حملے کر رہے ہیں اور دعوے کر رہے ہیں کہ یہ جیتیں گے۔یہ جیتیں گے تو نعوذ باللہ قرآن ہار جائے گا اور قرآن کو دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی۔ساری کائنات کی قوتیں اکٹھی ہو جائیں تو قرآن کی ایک آیت کو بھی نہ تبدیل کر سکتی ہیں نہ شکست دے سکتی ہیں۔پس فتح و شکست کا فیصلہ تو اس آیت نے کرنا ہے فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيْشَةِ رَاضِيَةٍ پاکیزہ زندگی خدا کی رضا والی زندگی اسی کو نصیب ہوگی جس کے ہتھیاروں میں وزن ہوگا۔وَاَقَا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ جن لوگوں کے ہتھیار خفیف ہیں یعنی قرآنی اصطلاح میں خفیف ہیں ان کے مقدر میں هَاوِيَةٌ کے سوا کچھ نہیں جسے ہم اردو میں تو قعر مذلت کہہ سکتے ہیں۔ذلتوں اور ناکامیوں کا گڑھا، وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے، حسرتوں کی آگ جلتی ہے۔نَارُ حَامِيَةٌ ہے وہ جو سر سے پاؤں تک جلا کے رکھ دیتی ہے۔یہ ان کا مقدر قرآن کریم نے لکھ دیا ہے اور اس مقدر کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا اور دن بدن جماعت احمد یہ پہلے سے زیادہ وضاحت کے ساتھ اس لڑائی کے انجام کو دیکھ رہی ہے۔وہ دعائیں کرتے ہیں ، وہ خدا کی مدد کو پکارتے ہیں لیکن اس خوف سے نہیں کہ مبادا ہم ہار جائیں گے۔اس لئے کہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور دنیا دیکھے کہ یہ جو سچائی کی مخالفت کرنے والے لوگ ہیں یہ بھی کامیاب نہیں ہوا کرتے۔اس انجام کو اپنی آنکھوں سے اپنی زندگی میں دیکھنے کی تمنالے کر وہ روتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں۔لیکن جہاں تک احمدیت کے شاندار مستقبل اور یقینی اور آخری فتح کا تعلق ہے کسی احمدی کے وہم وگمان کے گوشے میں بھی یہ خیال نہیں گزرتا کہ کبھی کسی پہلو سے بھی جماعت احمد یہ ہارسکتی ہے کیونکہ قرآن کریم اس کی پشت پر کھڑا ہے قرآن کریم کی تمام آیات اپنی تمام تر صداقتوں کے ساتھ ، جماعت احمدیہ کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔پس جن کے پاس قرآن کریم کی صداقتیں ہوں جن کو قرآن کریم کی ایک ایک آیت حوصلہ دیتی ہو اور ڈھارس دیتی ہو ان کے لئے اس وہم کا تو سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ وہ کسی طرح ہار جائیں گے یا شکست کھا جائیں گے اور جو دن بدن اپنے ہتھیاروں میں ننگے ہو کر زیادہ گندے ہو کر کھل کر سامنے آتے چلے جارہے ہیں اور خود جانتے ہیں کہ ہمیشہ سے انبیاء کے مخالفین نے یہ ہتھیار استعمال کئے تھے ان کے بد انجام کے متعلق کسی کو وہم بھی نہیں کرنا چاہئے۔ہاں دعا کرنی