خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد۵ 660 خطبه جمعه ارا کتوبر ۱۹۸۶ء سابقہ ڈاک کو نکالوں گا اور کچھ تاخیر سے اگر جواب جائیں تو میں سب احباب سے اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔دوسرے اس کے علاوہ جماعتی خبروں سے جو کچھ تعلق کٹ جاتا رہا ہے اگر چہ ہم جہاں بھی ہوتے تھے ، اہم خبریں ٹیلیفون کے ذریعہ سے ملتی رہتی تھیں مگر ٹیلیفون کا رابطہ اور نوعیت کا ہوتا ہے، باقاعدہ تفصیلی رپورٹوں کا ملنا ایک اور بات ہے۔اس کی وجہ سے بھی ایک محرومی اور بنیادی طور پر ہلکا سا کٹ جانے کا احساس رہا۔پھر جس کثرت سے مختلف دنیا سے احباب یہاں تشریف لاتے ہیں، وہ رابطہ بھی کینیڈا جیسے دور دراز ملک میں ممکن نہیں لیکن اس کے علاوہ جہاں تک جماعت کینیڈا کے دورے کا تعلق ہے یہ دورہ اپنی ذات میں نہایت ہی ضروری تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں انشاء اللہ آئندہ جماعت کی ترقی کے بہت سے سامان پیدا ہوں گے۔دورہ خدا کے فضل سے نہایت مصروف تھا اور اس خیال سے کہ بار بار موقع نہیں مل سکتا جماعتوں نے حتی المقدور میرے وقت کا بہترین استعمال کرنے کی کوشش کی۔اندرونی رابطے کے لحاظ سے بھی اور بیرونی رابطے کے لحاظ سے بھی اور دونوں لحاظ سے کینیڈا کے سفر کا میرے دل پر بہت ہی اچھا اثر پڑا ہے۔جماعتی طور پر تو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کینیڈا نے گزشتہ چند سالوں میں خدا کے فضل سے تربیتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔1978 ء میں جب میں انفرادی طور پر وہاں گیا تو کینیڈا کی جماعتوں کا اچھا اثر لے کر واپس نہیں آیا تھا۔اندرونی اختلافات بھی تھے اور مغربی معاشرے سے ایک طبقہ متاثر بھی ہو چکا تھا اور خصوصاً ہماری خواتین پر اس کے بداثرات ظاہر ہورہے تھے۔اس کے نتیجہ میں خطرہ تھا کہ آئندہ نسلیں خدانخواستہ ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔علاوہ ازیں بھی نظم و ضبط کی وہ کیفیت نہیں تھی جو ہر جگہ جماعت میں ہونی چاہئے اور جب یہ حالات ہوں تو لازماً ترقی پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور جماعتوں میں جا کر جو غیر معمولی خوشی کا احساس پیدا ہونا چاہئے اس کا وہاں فقدان تھا۔اب جب میں وہاں گیا ہوں تو خدا کے فضل سے ہر پہلو سے میری طبیعت میں خوشی کا احساس پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرف طبیعت مائل ہوئی کیونکہ مشرق سے مغرب تک جوسفر اختیار کیا تقریباً ساڑھے تین ہزار میل سے زائد کا سفر تھا صرف ملک کے اندر ہی اور وقت کے لحاظ سے تین گھنٹہ کا فرق پڑ گیا تھا مشرقی کنارے سے مغربی کنارے تک۔اس تمام عرصہ میں ہر جماعت