خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 655

خطبات طاہر جلد۵ 655 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء سے بھرا ہوتا ہے۔اسی طرح خدا کی محبت لقمہ لقمہ ان کو کھلائیں ، یہ اس کے محتاج ہیں اور ایک ایک لقمہ آپ بھی ساتھ کھاتی رہا کریں۔جب بچوں کی تربیت کریں گے تو پھر آپ کی بھی ساتھ تربیت ہوگی۔جب خدا سے پیار ہو گیا تو پھر خدا کے نام پر قربانیاں مانگی جائیں ، خدا کے نام پر آپ کو بلایا جائے تبلیغ کی تلقین کی جائے اور اس وقت آپ اس کو یاد رکھ کر آگے بڑھ رہے ہوں گے۔ہر قدم اٹھانے کی لذت آپ کو اس لئے آئے گی کہ آپ جانتے ہوں گے میرا ایک دوست ہے جو دیکھ رہا ہے۔جب چندہ دیں گے تو ذہن میں کبھی یہ نہیں آئے گا کہ فلاں سیکر یٹری مال کو دے رہے ہوں یا کسی اخبار میں چھپوانے کی خاطر دے رہا ہوں بلکہ چندہ دیں گے تو دماغ میں ہوگا کہ اللہ ہے ایک میرا اسی کی ضرورت پوری کر رہا ہوں میں، اس کے دین کی اور وہ دیکھ رہا ہے تو اس کو مزہ آرہا ہوگا۔زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔کام وہی ہیں جو عام لوگ کرتے ہیں لیکن اس کا رخ بھی بدل جاتا ہے سارا۔قبلہ بدل جاتا ہے اور قبلہ درست ہو جاتا ہے۔پس خدا کی محبت قبلہ درست کرتی ہے۔یہ آپ کی ہر نیکی کا قبلہ درست کر دے گی۔چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی اور بڑی سے بڑی نیکی کا بھی اور نیکیاں سب آسان ہو جائیں گی۔اب بعض دوست ایسے ہیں جن کو خدا توفیق بھی دیتا ہے لیکن چندہ دیتے ہوئے ان کو اتنی تکلیف ہوتی ہے اس لئے کہ ان کا قبلہ درست نہیں ہوتا۔اگر ایسے لوگ یہ سمجھتے کہ وہ اپنے بچوں کی ضرورت کے مقابل پر میں جماعت کی ضرورت پوری کر رہا ہوں اور بوجھل دل میں اس کے نتیجے میں محرومیاں پیدا ہوں گی۔اگر محبت پیدا ہو جائے اور خدا کے ولی بن جائیں تو ذہن میں یہ ہوگا کہ سب کچھ میرے پیارے نے دیا ہوا ہے اُس کی ضرورت ہے، اس کے دین کی ضرورت ہے میں جو کچھ بھی دوں گا اس کے نتیجہ میں اس کا پیار مجھے ملے گا اور وہ مالی قربانی آسان بھی ہو جائے گی اور لذیذ بھی ہو جائے گی اور اس کی قوت بھی بڑھ جائے گی۔اور اس کے نتیجہ میں جہاں تک ثواب کا تعلق ہے خدا کا یہ وعدہ لازماً آپ کے حق - میں پورا ہوگا۔لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔ایسے لوگ جو میرے ولی بن کر نیکیاں کرتے ہیں۔ان کے متعلق میرا وعدہ یہ ہے کہ دنیا بھی اُن کی خراب نہیں ہونے دوں گا۔ان کی نیکیوں کا پھل لازماً دنیا میں بھی دوں گا اور آخرت میں بھی دوں گا۔لَا تَبْدِيلَ لِعلمیت اللہ اور یہ ایک ایسی بات ہے جس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔یہ ایک