خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 656

خطبات طاہر جلد۵ 656 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء اتنا عظیم الشان اور قوی وعدہ ہے کہ ایک عاشق کے لئے کیا جاسکتا ہے ورنہ عام ملاں کی نیکی کے نتیجہ میں تو اتنے عظیم الشان پیار کا اظہار خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔گر یہی ہے کہ آپ خدا کا ولی بننے کی کوشش کریں۔پھر آپ کو کچی خوا میں بھی آئیں گی۔پھر آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے مکاشفہ کا تعلق بھی پیدا ہوسکتا ہے، مکالمہ کا تعلق بھی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ ولایت کے رستے پھر آسان سے آسان اور وسیع تر اور ہر قدم آسان ہو جاتا ہے۔اس پہلو سے آپ اس سبق کو یا درکھیں گے تو پھر مجھے یقین ہے کہ یہ جو فکریں ہیں کہ یہاں کا معاشرہ نعوذ باللہ آپ پر غالب نہ آجائے یہ ساری فکریں میری انشاء اللہ ختم ہو جائیں گے لیکن ہر دل میں یہ یقین ہونا ضروری ہے۔وہ جو ایک آیت میں نے پڑھی تھی جس میں یہ میں نے پڑھا تھا کہ اس دنیا پر وہ لوگ اطمینان پا جاتے ہیں وَاطْمَا نُوا بِهَا اس دنیا پر طمانیت پا جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دنیا کے ہو کر رہ جاتے ہیں ان کا آخرت سے تعلق کلیڈ کٹ جاتا ہے۔ولایت کے مضمون میں بھی ایک اطمینان کا ذکر ہے وہاں فرمایا گیا أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: ۲۹) - طمانیت تو بہر حال انسان چاہتا ہے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اطمینان قلب کے بغیر انسان زندہ رہ سکے۔فرمایا فرق یہ ہے کہ بعض لوگ دنیا کی نعمتیں پاتے ہیں تو ان کا دل لگتا ہے کہ بس یہیں کے لئے تھا اور ان کو سکون آجاتا ہے وہ دنیا کی نعمتوں کے ساتھ چمٹ کر بیٹھ جاتے ہیں، لیکن کچھ خدا کے اور بندے ہوتے ہیں۔جو خدا کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو جب تک خدا کی یاد نہ آئے ان کو تسکین قلب نہیں ملتی۔اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ - توجيها کہ آیات میں نے پڑھیں تھیں ہر بات میں ان کو ہر بات سے خدا کی یاد آنے لگ جاتی ہے، ہر بات ان کے لئے طمانیت کا موجب بن جاتی ہے۔پس یہ بہت ہی پیارا ، صاف اور سیدھا رستہ ہے اور محنت طلب نہیں ہے بلکہ محنت کی طاقتیں بھی خود بخشتا ہے۔خود آگے بڑھتا ہے جوں جوں رفتار بڑھاتا ہے اُسی رفتار کے ساتھ سفر کو آسان سے آسان تر کرتا چلا جاتا ہے اور لذیذ تر کرتا چلا جاتا ہے۔پس ہمیشہ کوشش کریں کہ خدا تعالیٰ سے سچا اور دائمی پیار پیدا ہو جائے۔اور بچوں کے دل میں بھی ، آپ کی بیویوں کے دل میں بھی ، بہنوں اور ماؤں کے دل میں بھی اور برعکس اس کے عورتوں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے بچوں میں خدا کا پیار گوندھ گوندھ کر داخل کر دیں۔اگر وہ دودھ پلاتی ہیں تو اپنے دودھ کے ذریعہ ان کے اندر خدا کا پیار