خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد۵ 652 خطبه جمعه ۳ اکتوبر ۱۹۸۶ء خود بھی اولیاء اللہ بنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کو بھی اولیاء اللہ بنانے کی کوشش کریں۔اور یہ کام جتنا بڑا ہے اتنا ہی آسان بھی ہے کیونکہ سب سے آسان راستہ محبت کا راستہ ہے۔ہر دوسرا راہ مشکل راہ ہے۔اس نکتے کو اگر کوئی سمجھ جائے تو اس کی ساری زندگی کے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔کتنا بڑے سے بڑا کٹھن مقام ہو عاشق کے لئے وہ آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس کو ایک مقصد سے یا ایک وجود سے پیار ہوتا ہے اور اس کے لئے جتنی بھی تکلیف اٹھاتا ہے اس میں لذت پانے لگ جاتا ہے۔اس لئے انبیاء کی اتنی مشکل زندگیاں کہ دور سے دیکھنے کے باوجود ہزاروں سال دور بیٹھے ہوئے ، ان کی زندگیوں کا تصور کریں تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں جو ہمیں یہاں نہایت ہی دردناک دکھائی دیتی ہیں ان کے لئے لذت کا موجب تھیں کیونکہ محبت کے نتیجہ میں تھیں تصنع کے نتیجہ میں نہیں تھیں ، بناوٹ کے نتیجہ میں نہیں تھیں ، زبر دستی ذہن کے حل کئے ہوئے مسائل کے نتیجہ میں نہیں تھیں، بلکہ یہ دل کا مسئلہ تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے سب سے بنیادی نکتہ یہاں بیان فرما د یاور نہ دنیا میں رہ کر خدا کا بننا بہت مشکل کام ہے ورنہ لازماً دنیا غالب آجاتی ہے۔فرمایا تم اپنے رب سے دوستی کا تعلق بناؤ ، اس سے پیار کا تعلق قائم کرو، روز مرہ کی زندگی میں اس سے باتیں کیا کرو اور اس کی طرف دیکھا کرو، ایک خوبصورت چیز دیکھو تو پہلے اللہ یاد آیا کرے بعد میں دوسری چیزوں کا خیال آئے۔کوئی اچھی چیز دیکھو۔مثلاً اچھی کار ہے تو دوطرح کے رد عمل ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ دل میں ایک آگ لگ جائے کہ جب تک میں نہ لے لوں یہ کار مجھے مزہ نہیں آئے گا۔دوسرا یہ کہ خدا تعالیٰ کی صنعتوں کی طرف دھیان چلا جائے کہ عجیب اللہ کی شان ہے۔ایک معمولی سی صنعت ہے کار، اس پر یہ لوگ سفر کرتے پھر رہے ہیں لیکن اللہ کی عظیم الشان صناعی ہے جس کو ہم ہر روز دیکھتے ہیں ، ہمارے اپنے وجود میں موجود ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا کی طرف کوئی توجہ پیدا نہیں ہوتی۔اس جہت میں کئی رد عمل ہو سکتے ہیں اور انسان کا دل سرور سے بھی بھر سکتا ہے لذت سے بھر سکتا ہے اور پھر ایک اور طرح بھی خدا کی طرف توجہ ہوسکتی ہے۔دل چاہتا ہے لینے کو تو اللہ سے کہہ سکتے ہیں اے خدا! میں تو تیرا ہوں اس لئے بظاہر تو میرے پاس کچھ نہیں ہے۔اگر میرے دل کی یہ تمنا پوری کرنی ہے تو یہ کار مجھے دے دے۔مکانوں کے متعلق ، دنیا کی چیزوں کے متعلق ایک یہ زندگی کا رحجان ہوسکتا ہے اور یہ رجحان ہے جو دراصل ولایت کا رحجان ہے اور اس رحجان میں کچھ بھی