خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 651

خطبات طاہر جلد ۵ 651 خطبه جمعه ۳ /اکتوبر ۱۹۸۶ء اس لئے آپ کو خدا تعالیٰ اس مغرب میں بسنے والوں کو خدا تعالیٰ جس راستے پر بلا رہا ہے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ آپ دنیا بالکل ترک کر دیں اور فقیروں کی طرح لنگوٹے کس کر خدا کے دین کی طرف دوڑیں۔خدا تعالیٰ آپ کو آدھے سے بھی محروم نہیں رکھنا چاہتا۔خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جو کچھ بھی خدا کا ہے اگر تم خدا کے ہو جاؤ تو وہ سب تمہارا ہو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اولیاء اللہ بنا پڑے گا اور اولیاء اللہ بننے کی ایک تعریف یہ ہے کہ تم خدا سے وہ سلوک تو کرو کہ جو کچھ تمہارا ہے وہ خدا کا ہو جائے۔اس طرح اولیاء نہیں بنا کرتے کہ جو کچھ تمہارا ہے وہ میرا ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ میرا ہے۔اولیا تو اس طرح بنا کرتے ہیں کہ پہلے آپ اپنے محبوب ، اپنے دوست کے لئے یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اسے لے لے اور جب آپ کا دوست آزمائش میں ڈالے تو واقعہ آپ دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔پھر اگر وہ زیادہ فنی ہے اور آپ سے زیادہ خوش حال اور متمول ہے آپ سے زیادہ صاحب قوت ہے تو وہ اس پیار کے یقین کے بعد پھر آپ کو نہ صرف سب کچھ واپس کرتا ہے بلکہ اس سے زیادہ واپس کرتا ہے۔دنیا کے معاملات میں تو یہ بات شاذ شاذ کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن خدا کے معاملہ میں ہر وہ بندہ جو خدا سے یہ سلوک کرے وہ اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے اللہ کے سلوک کو اور کچھ بھی ادھار باقی نہیں رہتا۔اس لئے جماعت احمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ اگر آپ نے باقی دنیا کو یعنی مغرب کو ان کی ہلاکتوں سے بچانا ہے تو پہلے اپنے اندر اولیاء اللہ والی خود اعتمادی تو پیدا کریں۔جب تک آپ خدا کے ساتھ محبت اور ولایت کا تعلق پیدا نہیں کرتے ، نہ آپ اس دنیا کے اثر سے بچ سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کو کسی بداثر سے بچا سکتے ہیں اور ولایت کا تعلق پیدا کرنا سب سے آسان کام ہے۔میں نے جب اس مضمون پر غور کیا تو بہت سی باتیں میرے ذہن میں آتی رہیں آپ کو سمجھانے کے لئے۔ایک یہ تھا کہ کسی طرح مغربی تہذیب سے بچنے کی کوششیں کرنی ہیں، کیا کچھ آپ نے اپنے بچوں کو بتانا ہے، کن کن چیزوں سے احتراز کرنا ہے کیا کیا اور کام کرنے ہیں۔اتنی لبی فہرست بن گئی اور بنتی چلی گئی کہ میں نے سوچا کہ ایک خطبہ تو کیا کئی خطبوں میں بھی پوری نہیں ہو سکتی یہ بات۔تب قرآن کریم کی اس آیت کی طرف میری نظر گئی اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے میرے سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے دے دیا ہے۔ایک ہی بات میں آپ کو بتادوں اور اس کے اندر ساری باتیں آجائیں گے اور وہ بات یہ ہے کہ