خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد۵ 646 خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۸۶ء ان کی عادت بن گیا۔پس قانون قدرت نے کامل انصاف کا سلوک کیا نہ ان کی دنیا رہی نہ ان کا دین رہا اور یہی کیفیت ہے آج جو ہمیں عالم اسلام میں الا ماشاء اللہ اکثر صورتوں میں دکھائی دیتی ہے۔جہاں تک ان مغربی قوموں کا تعلق ہے ان کے ساتھ بھی خدا نے انصاف کا سلوک کیا ہے۔فرمایا میری کائنات کا آدھا پیغام یہ سمجھے ہیں اور جو کچھ سمجھے ہیں اس پر راضی ہو چکے ہیں، اس پر ان کا دل اطمینان پکڑ چکا ہے تو میں وہ ان کو ضرور دوں گا جس پر ان کا دل اطمینان پکڑ چکا ہے ، لیکن کائنات کا جو اصل مقصد تھا اس کا یہ انکار کر بیٹھے ہیں۔ان کے نزدیک یہ کائنات صرف دنیا میں ان کے زندہ رہنے اور ان کے عیش و عشرت کی خاطر پیدا کی گئی ہے اس کے زیادہ اس کا مقصد ہی کوئی نہیں۔اس لئے یہ تو ان کو ضرور ملے گا لیکن کائنات کا جو بھی مقصد ہے اس سے یہ عاری رہ جائیں گے۔اس کے متعلق قرآن کریم مزید فرماتا ہے۔أُولَبِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَيُطِلُّ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(ہود: ۱۷ )۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کچھ نہیں ہوگا سوائے آگ کے وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا جو کچھ انہوں نے محنتیں کیں اور عظیم الشان کارخانے بنائے۔صَنَعُوا کا لفظ وہی ہے جو صنعت کے لئے استعمال ہوتا ہے ( انڈسٹری )۔جو کچھ انہوں نے انڈسٹری قائم کی جو کچھ عظیم الشان کارخانے بنائے ان کا پھل اسی دنیا میں رہ گیا ، حبط یہیں گر گیا، اس میں اوپر جانے کی طاقت نہیں تھی، اس میں اخروی دنیا میں ان کا ساتھ نبھانے کی کوئی طاقت نہیں تھی ، نہ اس مقصد کے لئے بنایا گیا تھا، نہ وہ اس مقصد کو پورا کر سکتا تھا۔بطل ما كَانُوا يَعْمَلُونَ اور اس دنیا میں ان کے عمل باطل ہو گئے۔باطل کہتے ہیں بے نتیجہ جو اصل مقصد سے ہٹ کے ہو۔چنانچہ قرآن کریم کی دوسری آیت جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی تھی اس میں اہل عقل کا یہ نتیجہ نکالنا بتایا گیا ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔باطل کہتے ہیں ایک ایسی چیز کو جو بے مقصد ہو، اپنی ذات میں کچھ لذتیں دے جائے لیکن اس کا نتیجہ بعد میں کوئی نہ نکلنے والا ہو۔تو اس دنیا کو انہوں نے باطل کے طور پر ہی دیکھا۔اس لئے ان کے اعمال باطل گئے ، یعنی ان کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور اس میں کوئی نا انصافی نہیں۔فرمایا ان کی فلاسفی یہ ہے یا وہ کہتے ہیں کہ جب بھی ان کو کہا جائے کہ ایک بعد کی دنیا ہے