خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد ۵ 59 خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۸۶ء صلى الله علوسه رشفقت کا ایک حیرت ا ت انگیز نهایت اس پر اگر آپ غور کریں تو آ یں تو آنحضرت علی کی رحمت اور شفقت کا ہی عظیم الشان پہلو سامنے آتا ہے۔ یہ عذاب کی خبریں تو مخالفین اور معاندین کے متعلق دی جارہی تھیں ۔ پس جب آنحضرت ا پناہ مانگتے ہیں تو عملاً ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ایسے سخت عذاب میں ان کو مبتلا نہ فرما۔ پس وہ عذاب جو خدا کی طرف سے براہ راست نازل ہوتا ہے عارف باللہ اس سے بہت زیادہ خوف کھاتا ہے اور انسان جو انسان کو تکلیف پہنچا سکتا ہے اسکو نسبتا کم محسوس کرتا ہے۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے ان دونوں عذابوں کی دفعہ جو براہ راست خدا کی طرف سے آسمان سے نازل ہوں یا زمین سے ظاہر ہوں ان کی مرتبہ خدا سے پناہ مانگی یعنی اپنے مخالفین کے حق میں عملاً دعا کی اور تیسری قسم جب عذاب کی بتائی گئی تو آپ نے فرمایا ہاں یہ نسبتاً آسان ہے۔ معاندین کو خدا نے پکڑ نا تو تھا لیکن ان کے لئے نسبتاً آسان پکڑ کی طلب فرمائی۔ صلى الله علوسم جہاں تک تاریخ گواہی دیتی ہے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سے کے زمانے میں یعنی پہلے زمانے میں اب بھی آپ ہی کا زمانہ ہے اولین دور میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا کی قبولیت کے نشان دکھائے اور ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا جیسے پرانی قوموں کو آسمان صلى الله سے پتھر برسا کر ہلاک کیا گیا تھا کہ حضرت رسول کریم ﷺ کے سامنے آپ کی قوم کو اس طرح ہلاک کیا گیا ہو۔ ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم کو آسمان سے بھی ہلاکت کا پیغام ملا اور زمین نے بھی ہلاکت اگلی اس طرح آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی قوم کے متعلق ایسی تکلیف دہ سزا کا مشاہدہ فرمایا ہو ۔ ہاں آپس میں انسان کے ذریعے انسان کو جو پکڑ جو عذاب میں مبتلا کیا جا سکتا ہے وہ نظارے آنحضرت علی کو دکھائے گئے اور اس میں بھی اَهْوَنُ کے پہلو کو ہمیشہ پیش نظر رکھا گیا۔ آج دشمن اسلام حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے غزوات اور ابتدائی جنگوں کے متعلق جتنا چاہے کہے، جس قدر چاہے تعصب کا اظہار کرے لیکن کل عالم میں بلا اشتباہ ایک بھی نظیر ایسی نہیں پیش کر سکتا کہ اتنا عظیم الشان انقلاب اتنی تھوڑی جانی قربانی کے ذریعے رونما ہو گیا ہو۔ تمام جنگوں میں تمام غزوات میں جو حہ م غزوات میں جو حضور اقدس محمد مصطفیٰ کو پیش آئے ان تمام میں چند سونفوس سے صلى زیادہ ہلاک نہیں ہوئے اور حیرت انگیز انقلاب جزیرہ عرب میں ہی رونما نہیں ہوا بلکہ چاروں طرف پھیل گیا ان سرحدوں کو عبور کر گیا۔