خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۵ 639 خطبه جمعه ۲۶ / تمبر ۱۹۸۶ء ہمدردی کی ہوایسی ہمدردی کی کہ آپ کا دل زخمی ہوان کے لئے پھر آپ ضرور دیکھیں گی کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ نصیحت ضرور اثر دکھائے گی اور مرد بھی اگر خاتم بن کر زندہ رہیں گے اور جبر اور سختی کے ساتھ نہیں بلکہ گہرے دلی جذبے کے ساتھ خواتین پر رحمت کا ہاتھ رکھتے ہوئے ان کی تربیت کی کوشش کریں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اپنے اپنے دائرہ میں خاتم بنادے گا اور یہی حقیقی مضمون ہے خاتمیت کا کہ دیکھو جس طرح محمد مصطفی ﷺ کو کل عالم میں سب سے بہترین وجودوں کا خاتم بنایا گیا اگر اس وجود کی طرف تم منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو تم بھی اپنے اپنے دائرہ میں خاتم بن کر زندہ رہو یہی حقیقی زندگی ہے اس کے سوا کوئی زندگی زندگی کہلانے کی مستحق نہیں ہے خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: خطبات میں اردو میں اس لئے دیتا ہوں کہ اکثر احمدی ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جن کی زبان اردو ہے اور براہ راست میری زبان سے خطبات سننے کی ان کی خواہش بھی ہے اور ان دنوں خصوصیت سے حق بھی ہے لیکن ساتھ ہی میں ہمیشہ تاکید کرتا ہوں کہ ان دوستوں کے لئے ترجمہ کی انتظام ہونا چاہئے جو اردو نہیں سمجھ سکتے اس سلسلے میں یہاں کچھ کوتاہی ہوئی ہے۔ایسے احمدی احباب ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں جن کو اردو نہیں آتی اور بڑے صبر اور خاموشی کے ساتھ خدا کی رضا کی خاطر اس مجلس میں بیٹھے رہے لیکن ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکے۔تو آئندہ جو ایک خطبہ یہاں ہو گا ٹورنٹو، کینیڈا میں امیر صاحب کو چاہئے کہ خواہ دو آدمی بھی ہوں یا ایک بھی ہو اس کے لئے بھی ان کو ترجمہ کا انتظام کرنا چاہئے جیسا کہ انگلستان میں ہوتا ہے۔ہر وہ خطاب جو اردو میں ہو اس کا انگریزی میں ترجمہ کا نہایت ہی مؤثر انتظام وہاں کی جماعت کرتی ہے اور اللہ کے فضل کے ساتھ بڑی محنت کے ساتھ اس طرف توجہ کر رہی ہے۔تو کینیڈا کی جماعت کو بھی یہ چاہئے کہ عام مجالس میں جہاں غیر ایسے شامل ہوں جن کو اردو نہیں آتی وہاں خواہ وہ عمومی خطاب ہو یا چند آدمیوں کی مجلس ہو وہاں حتی المقدور وہ زبان بولیں جو سب کو آتی ہو۔ورنہ بہت سارے احمدی احباب جو نئے احمدی بنتے ہیں وہ اس وجہ سے ہی ٹھوکر کھا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ احمدیت گویا پاکستانی معاشرے کا نام ہے اور یہ لوگ اپنی زبان میں مگن ہو جاتے ہیں اور ہماری پرواہ نہیں کرتے۔تو اس لئے بھی ضروری ہے لیکن اگر ایسی زبان ممکن نہ ہو،