خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۵ صلى الله 637 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء رہنا ہے اور آنحضرت ﷺ کے مقابل پر ہر دوسری قوم پر آپ کی قوم کے غلبے کو ثابت کر کے دکھانا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے تربیت کا جس میں آج اسلام کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ محاورہ ہم کہتے ہیں کہ زندگی اور موت کا سوال ہے عملاً تو زندگی ہی کا سوال ہے اسلام کے لئے اور صلى الله آنحضرت کو خدا از رت علی کو خدا تعالیٰ نے جو یہ خوش خبریاں دی ہیں کہ لازماً اسلام غالب آ که لازماً اسلام غالب آئے گا ۔ یہ ضرور ہو کر ا۔ رہے گا ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن سوال اتنا اہم ہے کہ اسے زندگی اور موت کا سوال کہا جا سکتا ہے۔ ان معنوں میں کہ جو لوگ اس سوال کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے وہ خشک شاخوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ان کے اثرات مٹ جائیں گے ۔ غیر قو میں ان پر غالب آجائیں گی اور ان کی نسلیں ان کے دیکھتے دیکھتے ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گی۔ پھر حسرت کے ساتھ وہ وقت یاد کریں گے کہ جب وہ اثر کر سکتے تھے اور اثر کرنے سے محروم رہے۔ پس پردہ ہو یا دیگر اخلاقی تقاضے ہوں یا تمدنی تقاضے ہوں ان کو آپ معمولی نہ سمجھیں ۔ یہی وہ میدان ہے جہاں پہلی فتح اور شکست کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اس میدان کو آپ نے مار لیا تو یقیناً آپ یہ امید رکھنے کے اہل ہیں کہ آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ اس قوم پر غالب آجائیں گے ۔ اگر اس میدان سے آپ بھاگ گئے تو یہ پیٹھ دکھانے والے پھر کبھی فتح کا منہ نہیں دیکھیں گے۔ یہ ایک ایسی تقدیر ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ، یہ ایک ایسا قانون ہے جو سنت اللہ کا مقام رکھتا رکھتا ہے۔ على اس لئے آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کا حق ادا کریں آپ ہی ہیں تحفظ ختم نبوت کے پاسبان ۔ آپ ہی ہیں جنہوں نے خاتمیت کے حقیقی مضمون ، اس کی روح کی حفاظت کرتی ہے ۔ اس غرض سے آپ دنیا کی قوموں میں نکلیں ۔ اس غرض سے آپ اسلام کے سفیر بنائے گئے ہیں۔ اس لئے اس کی اہمیت کو سمجھیں اور یاد دلاتے رہیں ایک دوسرے کو اور اپنی خواتین کو بھی بتائیں کہ یہ معمولی باتیں نہیں ہیں۔ اگر ان کو نظر انداز کریں گی تو غیروں کو بچانے کا کیا سوال اپنی اولا دکو اپنی آنکھوں کے سامنے ہلاک ہوتے دیکھیں گی اور کوئی نہیں پھر ان کو جو بچا سکے گا ۔ خدا کا قانون ان معاملات میں ہرگز رعایت نہیں کیا کرتا ۔ نوح کے بیٹے کو یاد کریں جو خدا کے پیارے انبیاء میں ایک عظیم مقام رکھتا تھا، کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا بیٹا ہلاک ہوا اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول کرنے کی بجائے اس کی سرزنش فرمائی کہ دیکھ یہ جاہلوں والی باتیں نہ کر یہ تیرا بیٹا نہیں ہے کیونکہ