خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد ۵ 629 خطبه جمعه ۲۶ / تمبر ۱۹۸۶ء خدا نے بنایا ہواس کو شریعت کا وضاحت کرنے والا نہ سمجھے اور اس پر اضافے کر دے یا اس میں کمی کر دی۔اس لئے جو کچھ بھی کوئی کہے میں ہر گز اس کم سے کم معیار کو بدلنے والا انسان نہیں ہوں، نہ میری طاقت ہے نہ میری حیثیت ہے۔اس لئے وہ تو میں ضرور بیان کروں گا لیکن وہ معیار بھی جسے آپ کم سے کم سمجھتی ہیں ایک بہت ہی اعلیٰ معیار ہے کیونکہ اس کے پیچھے پردے کی ساری روح قائم ہے۔وہ سارے تقاضے جو پردے کے ہیں ان کو نظر انداز کرنے کے بعد وہ کم سے کم معیار نہیں رہتا بلکہ ان کوملحوظ رکھنے کے بعد پھر وہ کم سے کم معیار بنتا ہے اور یہ ایک بہت بڑا مطالبہ ہے۔ایسی خواتین جو چہرہ اتنا ڈھا نہیں صرف جتنا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلامی اصول کی فلاسفی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہاتھ سے ایک تصویر بنا کر دکھایا ہے تو بالکل کافی ہے لیکن اس کے ساتھ جو روح بیان فرمائی ہے اس کو بھی تو ملحوظ رکھیں۔اگر اس کی روح مار دیں گے تو پردہ کا بت تو قائم ہو جائے گا ایک زندہ پر دہ قائم نہیں ہو سکتا۔اس صورت میں ان خواتین کو چاہئے کہ باہر جب نکلیں تو ہر گز سنگھار نہ کریں۔اپنی آسائش کو بڑھا کر نہ دکھائیں، اپنی چال ڈھال میں ایک وقار پیدا کریں، اپنے جسم کو سمیٹ کر رکھیں اور ہرگز ایک بیمار آدمی کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں بلکہ ان کی نظر ایک غلط نظر کو دھتکار کر پیچھے پھینکے۔اگر یہ روح ہے پردہ کی تو وہ کم سے کم معیار جسے آپ کم سے کم سمجھ رہی ہیں وہ کم سے کم رہتا ہی نہیں در حقیقت ایک بہت بلند معیار بن جاتا ہے اور کسی کا حق نہیں کہ اس کے اوپر اعتراض کر سکے۔لیکن ظاہری طور پر کم سے کم صورت کو اختیار کر لینا اور اندرونی طور پر کم سے کم کو کلیۂ نظر انداز کر دینا اور ہر اس چیز کو جو روح کہلاتی ہے اس کو بھلا دینا یا پرے پھینک دینا حقارت سے یہ تو پردہ نہیں ہے۔اس کے کچھ اثرات ایسے ہیں جو ذاتی ہیں مجھے اس وقت ان سے زیادہ بحث نہیں ہے۔انفرادی نیکیاں، انفرادی بدیاں ہر ایک کا معاملہ اپنے رب سے ہے وہ جس کو چاہے گا بخشے گا ،جس کو چاہے گا پکڑے گا لیکن میں بحیثیت قومی نگران کے خصوصیت کے ساتھ وہ پہلو آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں جو ساری قوم پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس زمانے کے احمدیوں پر نہیں بلکہ آئندہ آنے والے احمدیوں پر بھی شدید اثر انداز ہوں گے۔یہ تمدنی تقاضے اگر آپ چھوڑ دیں گے، اسلام کے تمدنی تقاضے اور یہ معاشرتی تقاضے اگر آپ چھوڑ دیں گے جو اسلام کے معاشرتی تقاضے