خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 627
خطبات طاہر جلد۵ 627 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء پابندیاں قرآن کے نام پر یا اسلام کے نام پر عائد کیں جب وہ ایک سوسائٹی کا حصہ بن گئیں تو ان سے باہر نکلنے میں بعض ایسی احتیاطوں کی ضرورت ہے جو ہمارے اپنے فائدہ میں ہیں۔اگر ہم ان احتیاطوں کو چھوڑ دیں گے تو گہرا نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔کیونکہ ایک لمبی نسلاً بعد نسل تربیت کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ ہم نے برقع کو پردہ سمجھ لیا تھا حالانکہ جیسا کہ میں بیان کیا ہے حقیقت یہی برقع پردہ نہیں ہے پردہ کا ایک ذریعہ ہے اور بعض بہت سی صورت میں اس پردہ سے زیادہ سخت ہے جو اسلام عائد کرتا ہے۔مثلاً صوبہ سرحد میں اگر آپ چلے جائیں تو وہاں ایک تنمو قسم کا برقع آپ کو نظر آئے گا اور نہایت ہی ایک خوفناک شکل ہے اس برقع کی۔باریک سوراخ آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں اور سارا سر سے پاؤں تک یوں معلوم ہوتا ہے تمبو میں لپٹی ہوئی عورت پھر رہی ہے اور اس کی زندگی ایک تکلیف کی زندگی رہتی ہے ہمیشہ۔وہ حتی المقدر باہر ہی نہیں جاتی بے چاری کہ جب بھی جاؤ گی اس مصیبت میں مبتلا ہو کر باہر نکلوں گی۔تو بعض اور بھی شدتیں اختیار کرلیں برقع نے جو پنجاب میں عموما نہیں پائی جاتیں اور احمدیت میں جو برقع رائج ہے وہ پنجاب میں رائج دوسرے برقعوں سے بھی نسبتاً آسان ہے۔ہم نقاب میں آنکھوں کی جگہ چھوڑ دیتے ہیں عورتیں آنکھیں نیچے کر کے نقاب لیتی ہیں اور بہت بہتر اور زیادہ سہولت والی شکل ہے اور قرآنی تعلیم کے مخالف بھی نہیں۔جہاں تک نظر کا تعلق ہے مرد اور عورت میں قرآنی تعلیم میں کوئی بھی فرق نہیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ عورت کی آنکھ چھپانی ضروری ہے جب کہ مرد کی آنکھ چھپانی ضروری نہیں تو وہ قرآنی تعلیم کو نہیں جانتا۔یا اگر جانتا ہے تو کسی اور مصلحت کے پیش نظر ایسی بات کر رہا ہے۔جہاں تک حقیقی قرآنی تعلیم کا تعلق ہے مرد اور عورت کی آنکھ میں تعلیم میں فرق نہیں۔دونوں کو جھکنا چاہئے ، دونوں کو آزادانہ نہیں پھرنا چاہئے۔تو آنکھ کا پردہ تو یہ پردہ ہے۔باقی جو چہرے کا پردہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تشریح کے بعد احمدی خواتین میں جو برقع رائج رہا یا اب بھی رائج ہے وہ دوسرے تہذیبی برقع سے نسبتاً آسان تر ہے اور الا ماشاء اللہ اس کی روز مرہ کی زندگیوں میں کوئی دقت پیدا نہیں کرتا۔تو جب اس برقع کو چھوڑ کر بعض خواتین یہ کہہ کر کہ برقع پردہ نہیں باہر آنے کی کوشش کرتی ہیں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض اوقات تو وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو کر ایک دوسری تہذیب