خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد۵ 622 خطبه جمعه ۲۶ ستمبر ۱۹۸۶ء یہ وہ بنیادی فرق ہے جس کی تفصیل بیان کرنی بہت ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق صرف پردے سے نہیں بلکہ ہماری اور بھی بہت سی اچھی اور بد عادات سے ہے بلکہ ہر نیکی اور بدی کے ساتھ اس مسئلے کا گہرا تعلق ہے اسے سمجھنا بڑا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ کی ذات ہر نیکی سے مرصع تھی اور نیکی کے انتہائی مقامات پر آپ کو فائز فرمایا گیا۔وہ گہری نیکیاں جن کا بندے اور خدا سے تعلق ہے وہ نیکیاں تو ایسی نیکیاں ہوتی ہیں جن میں سے اکثر باہر سے دیکھنے والے انسانوں کو دکھائی نہیں دیتیں اور حقیقت میں خدا اور بندے کا تعلق دنیا کی نظر سے پردے میں رہتا ہے۔وہ مثبت فیصلہ کرے کسی کی حالت دیکھ کر وہ بھی غلط ہوسکتا ہے، منفی فیصلہ کرے وہ بھی غلط ہوسکتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اندرونی طور پر کسی کا اپنے رب سے کیا تعلق ہے لیکن کچھ نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جو باہر سے نظر آتی ہیں اور دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا اخلاق ان میں سے ایک ہیں۔تو آنحضور ﷺ نے فرمایا انی بعثت على مكارم الاخلاق (موطا امام مالک کتاب الجامع ) کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی طرف سے میں اخلاق سے بھی چوٹی کے جو انتہائی عزت کے مقام پر فائز اخلاق ہیں ان پر میں فائز کیا گیا ہوں۔تو اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے وہ لطیف اور باریک پہلو جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے ان کو سر دست نظر انداز بھی کر دیں تو وہ پہلو جو دکھائی دینے والے ہیں یعنی اخلاق کی انتہائی بلندیاں ان پر تو ہم ہر حال میں اگر توجہ کریں تو آنحضور ﷺ کوفائز دیکھ سکتے ہیں۔اگر آپ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو اکثر سیرت کے مطالعہ کے دورانیہی پہلو ہے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے اور اس کے پس منظر میں بہت سے پہلو ہیں جو مخفی رہتے ہیں۔اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے مقابل پر ہر دوسرا انسان بداخلاق تھا کیونکہ اخلاق ایک نسبتی چیز ہیں، اخلاق کا سفر ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ایک لا متناہی سفر ہے اور کم اخلاق والا انسان بعض دفعہ اعلیٰ اخلاق والے انسان سے اتنا دور ہوتا ہے کہ جیسے تحت الثر کی ثریا سے دور ہے۔اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اگر وہی طریق اختیار کرتے جو میں نے بیان کیا ہے کہ بعض ہم میں سے کم فہم انسان اختیار کر لیتے ہیں یعنی اپنے سے کمزور کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تو آنحضرت علے کسی ایک فرد بشر کی تربیت کے بھی اہل نہ رہتے۔اپنے سے ہر چھوٹے کو آپ نے محبت اور رحمت کی نظر سے دیکھا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے آپ کو رحمتہ للعالمین قرار دیا اور