خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد۵ 620 خطبه جمعه ۲۶ ر ستمبر ۱۹۸۶ء تھا وہ اپنی ذات میں اس لائق ہے کہ اس پر توجہ کی جائے۔چنانچہ بعد میں میں نے سوچا کہ آئندہ خطبہ میں اس مضمون پر نسبتا زیادہ وضاحت سے روشنی ڈالوں گا۔اس کا سوال یہ تھا کہ پردہ پر جو زور دیا جاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض خواتین یہاں جب مشن ہاؤس میں آتی ہیں تو سر ڈھانپ لیتی ہیں اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کم سے کم پردہ کا ادنیٰ معیار ضرور پورا کر رہی ہیں اور جب باہر بازاروں میں نکلتی ہیں یا اپنے سوشل تعلقات پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے کے گھروں میں جاتی ہیں تو نہ صرف یہ کہ پردے کا خیال نہیں کرتیں بلکہ خوب سج دھج کر اور زینت کو ابھار کر باہر آتی ہیں جو پردہ کی روح کے سراسر منافی ہے۔یہ میں نے اپنے الفاظ میں اس بچی کے سوال کا مفہوم بیان کیا ہے جس میں کچھ طرز میں تلخی پائی جاتی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند سال سے میں نے متعدد مرتبہ پردہ کی طرف جماعت کو متوجہ کیا ہے اور اس مضمون پر بڑی تفصیل سے مختلف خطبات میں اور بعض خواتین کے خطابات میں روشنی ڈالی ہے لیکن یہ ایک مضمون ایسا مضمون ہے جو خصوصاً مغربی دنیا میں بار بار یاد دہانی کے لائق ہے۔عورتیں اس مضمون میں بحث کرتے ہوئے دو گروہوں میں بٹ جاتی ہیں۔ایک وہ گروہ ہے جو خود پردہ کا انتہائی پابند بلکہ پاکستانی طرز کا پردہ جو برقع کہلاتا ہے۔برقع اور بھی کئی قسموں کا ہے مثلاً افغانستان میں بھی برقع ہے، عربوں میں بھی برقع کا رواج ہے، ترکی میں بھی برقع کا رواج ہے لیکن میں جس برقع کی بات کر رہا ہوں وہ پاکستانی برقع ہے۔تو ایسی خواتین بھی ہیں جو پاکستانی طرز کے پر دے اور برقع میں ملبوس پوری طرح احتیاط کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہیں اور اس بات سے بالکل قطع نظر کہ وہ کس ملک میں رہ رہی ہیں جس پر دے کو سچا پر دہ بجھتی ہیں اسے اختیار کرتی ہیں اور کچھ ایسی خواتین ہیں جو پردہ سے باہر نکلنے کے آخری کنارے پر کھڑی رہتی ہیں اور جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو بعض ان میں سے برقع بھی سلوا لیتی ہیں۔جب نصیحت میں کچھ دیر ہو جاتی ہے تو برقعے اتر کر پھر چادریں سروں پر آجاتی ہیں۔جب کچھ اور دیر ہو جاتی ہے تو چادریں سرکنے لگتی ہیں اور بے احتیاطی بڑھنے لگتی ہے۔تو ایسی بین بین کیفیت میں وہ زندگی گزارتی ہیں کہ ان کا دل پر دے پر مطمئن نہیں ہوتا اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ جس سوسائٹی میں ہم زندگی بسر کر رہی ہیں یہاں عورت آزاد ہے اور یہاں ویسے مسائل نہیں ہیں جیسے مسائل پاکستان یا تیسری دنیا کے بعض ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ادب کے