خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 618 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 618

خطبات طاہر جلد۵ 618 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء دیکھیں گے آپ کہ آپ کو کتنا محرومی کا احساس بڑھے گا، کیا کچھ پانے کی نئی تمنا ئیں آپ کے دل میں پیدا ہوں گی۔ہر وقت ایک لگن لگی رہے گی کہ ہمیں یہ بھی بنا تھا اور وہ بھی بنا تھا اور وہ بھی بننا تھا اور وہ بھی بنا تھا۔ابھی تو ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے۔پس یہ وہ نظریہ ہے جس کی خاطر مجھے چند باتیں آپ کے سامنے پیش کرنا ہوں گی۔آج چونکہ خطبہ کا وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے میں اس مضمون کے دوسرے حصے کو آئندہ جمعہ تک اٹھا رکھتا ہوں۔بہت سی ایسی معاشرتی خرابیاں جماعت میں پیدا ہو چکی ہیں جس نے جماعت کی عائلی زندگی کو بھی تباہ کر دیا ہے اور آئندہ نسلوں پر بہت برے رنگ میں اثر انداز ہوسکتی ہیں۔بیسیوں خط مجھے ا روزانہ ملتے ہیں ایسی باتوں کے جن کو پڑھ کر شدید تکلیف پہنچتی ہے کہ احمدی گھروں میں خاوند ایسے ہیں اور بیویاں ایسی ہیں اور بہود کیں ایسی ہیں اور سائیں ایسی ہیں، نندیں ایسی ہیں اور نندوئی ایسے ہیں۔گھروں میں وہ فیکٹریاں ہیں در حقیقت جہاں سے گلیاں سنورتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں۔گلیوں میں جو جرم پلتے ہیں وہ بھی دراصل گھروں سے نکل کر گلیوں میں جمع ہوا کرتے ہیں۔گلیوں میں جو نیکی کے کام جاری ہوتے ہیں وہ بھی پہلے گھروں میں بنتے ہیں پھر گلیوں میں ظاہر ہوا کرتے ہیں۔اس لئے اگر آپ نے معاشرہ کو درست کرنا ہے سب سے چھوٹے یونٹ یعنی گھر پر نظر کرنی ہوگی۔گھر کو جنت میں تبدیل کئے بغیر آپ نہ اپنے شہر کو جنت میں تبدیل کر سکتے ہیں نہ عالم کو جنت میں تبدیل کرنے کا دعوی کر سکتے ہیں۔اس لئے انشاء اللہ حسب توفیق آئندہ خطبہ میں خصوصیت کے ساتھ چند معاشرتی بیماریوں کا ذکر کر کے میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ جلد تر ان سے اجتناب کریں اور استغفار کریں اور اپنے معاشرے کو حسین بنانے کی کوشش کریں۔دنیا تو آپ کو جہنم میں مبتلا کرنے کے لئے ہر کوشش کر رہی ہے، کم سے کم آپ خود اپنے لئے تو جنت پیدا کریں، خود تو ایسے معاشرہ میں بسیں جس کا نام قرآن کی رو سے جنت ہے اور جس کا شجر ، شجرہ طیبہ ہے جس کو حسین پھل لگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔