خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد۵ 605 خطبہ جمعہ ۱۹ ر ستمبر ۱۹۸۶ء ادنی ہے۔بظاہر تو یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن آج کی دنیا میں خصوصاً مغربی دنیا میں اس آیت کا یہ ٹکڑا بڑی شدت کے ساتھ عمل دکھا رہا ہے۔ساؤتھ افریقہ میں جتنے بھی دکھ پھیلے ہیں اور بھی تک ساؤتھ افریقہ جن دکھوں سے گزر رہا ہے اس کی بنیاد یہی قومی تفاخر ہے۔ایک قوم کو خیال ہے کہ وہ دوسری قوم سے بہتر ہے۔اسرائیل کے قیام کے تصور بھی اسی غلط خیال کا نتیجہ ہے۔اسرائیلی قوم کو بھی یہ گمان ہے کہ وہ خدا کے دوسرے بندوں سے بہتر ہے۔اس لئے محض قومیت کی بناء پر انہوں نے اپنا ایک عالمی مرکز قائم کرنے کا حق دنیا سے تسلیم کروایا اور محض نسلی امتیاز کی بنا پر وہ اکٹھے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہودیت میں سے مذہب کا حصہ اب تقریباً عنقا ہو چکا ہے۔ایک نسل کے فخر کا ایک احساس ان کے دلوں میں ایسا شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ آج دنیا پر جو تفوق چاہتے ہیں، جو تسلط پیدا کرنا چاہتے ہیں۔خالصیۂ نسلی امتیاز کے نظریہ پر یہ کوشش کی جارہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ نسل کے لوگ ہیں کے تمام دنیا پر حکومت کا حق رکھتے ہیں اور عجیب بات ہے کہ نازیوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے ان کو مار پڑوائی جن کا اپنا یہی نظریہ تھا۔بعض کے ذریعہ بعض کو جب خدا سزا دلواتا ہے تو ویسے ہی بعض چتا ہے ان کے لئے۔لوہا لوہے کو کا تا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ لکڑی سے آپ لوہا کاٹیں اس لئے جب ایک بد کو دوسرے بد سے سزا دلوانی ہو تو ان میں ا یک ہی جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں ایسی خصلتوں کے لوگ خدا اختیار فرماتا ہے جو کسی دوسرے بد کے پہلے کے ہوں۔اسے جس طرح خدا کی تقدیر چاہے سزا دے بھی سکتے ہوں۔اسی طرح مغربی ممالک میں جو نسلی امتیاز کے نتیجہ میں آئے دن لڑائیاں ہوتی ہیں اور قتل و غارت ہوتے ہیں۔انگلستان میں کیا ہو رہا ہے؟ مغربی جرمنی میں کیا ہو رہا ہے؟ دیگر ممالک میں کیا ہورہا ہے۔ان سب کی بنیاد یہی نسلی تفاخر کا تصور ہے۔اشترا کی دنیا جو دو نیم ہو چکی ہے اور یورپین اشترا کی نظریہ بنیادی طور پر اگر چہ مشرقی اشترا کی نظریہ کے مطابق ہے، اس سے ہم آہنگ ہے۔اس کے باوجود چین میں اشتراکیت اور روس میں اشتراکیت میں ایک نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔چینی اشتراکیت روسی اشتراکیت کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نہیں آگے بڑھ سکتی۔اتنے شدید بنیادی اختلاف پیدا ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے