خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد۵ 606 خطبه جمعه ۱۹ر تمبر ۱۹۸۶ء دشمنوں کے ساتھ وہ دوست بن سکتے ہیں لیکن آپس میں نظریہ کے اشتراک کے باوجود ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے۔اس کے پس منظر میں بھی یہی نسلی امتیاز کا تصور ہے جو کارفرما ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ روس اگر چہ دنیا میں اشتراکیت کا غلبہ چاہتا ہے لیکن زردرنگ کی اشتراکیت کا غلبہ نہیں چاہتا بلکہ سفید فام اشتراکیت کا غلبہ چاہتا ہے جیسا کہ غالب نے کہا ہے : آئیں وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں آئیں تو سہی لیکن اس طرح نہ آئیں کہ رقیب کے ساتھ آئیں۔پس روس بھی زرد فام قوموں کے غلبہ کو ، خواہ اشتراکیت کے نام پر ہواشتراکیت کی وجہ سے ہو، کسی صورت میں قبول نہیں کر سکتا۔پس نظریات کی دنیا ہو یا سیاست کی عام دنیا ہوکسی پہلو سے آپ دیکھیں آج دنیا میں بڑے بڑے اختلافات جونہایت ہی خوفناک جنگوں پر منتج ہو سکتے ہیں جو عالمگیر تباہیوں پر منتج ہو سکتے ہیں ان کی بنیاد نسلی افتخار کے تصور پر قائم ہے۔پس قرآن کریم نے فرمایا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْهِ کہ ایک قوم اپنے آپ کو دوسری قوم سے بڑا سمجھتے ہوئے اس کی تحقیر نہ کرے، اس کو اپنے سے ادنیٰ نہ جانے۔اسکے معابعد قرآن کریم فرماتا ہے کہ کوئی عورت کسی عورت کے اوپر تفاخر اختیار نہ کرے اور اس سے مذاق ان معنوں میں نہ کرے کہ اس کی تحقیر کر رہی ہو۔قوموں کے مقابل پر عورت کو بھی رکھ دینا بظا ہر یہ ایک بے جوڑ بات دکھائی دیتی ہے۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ قومی تفاخر کا ذکر ہے عالمی حیثیت سے اور معاشرتی تفاخر کے طور پر عورت کو پیش کیا گیا ہے ایک نمائندہ کے طور پر۔کیونکہ معاشرے میں جتنی بھی برائیاں پھیلتی ہیں ایک دوسرے پر بڑائی دکھاتے ہوئے وہ عورت کی طرف سے زیادہ تر رونما ہوتی ہیں اور عورت کا مزاج اس بات سے قریب تر ہے کہ وہ دوسرے کے اوپر ، دوسرے خاندانوں کے اوپر ، دوسری عورتوں اور لڑکیوں کے اوپر اپنی بڑائی خاندانی طور پر ظاہر کرے اور اپنے آپ کو بہتر سمجھے۔بہت کم آپ کو مرد ایسے نظر آئیں گے جو خاندانی طور پر اپنی فوقیت جتانے کے نتیجہ میں کسی لڑائی کو پیدا کرنے والے بنے ہوں لیکن معاشرہ کی اکثر لڑائیاں عورتوں کے ان طعنوں کے نتیجہ میں ہوتی ہیں کہ تم کس خاندان کی ہو اور وہ کس خاندان کا ہے اور اس کی ذات کیا ہے اور اس کی قومیت کیا ہے اور رشتے ڈھونڈتے وقت بھی یہ ساری باتیں چلتی ہیں اور اگر رشتہ ہو جائے تو پھر بھی مسلسل یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔تو جہاں