خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد۵ 598 خطبه جمعه ۱۲ار تمبر ۱۹۸۶ء ایک اچھے آقا اور اچھے غلام کے ساتھ جو سلوک ہونا چاہئے وہ تو ہم سے ضرور ہوتا ہے۔اس لئے وہ صفات جو دیگر ہیں وہ تو ان لوگوں کو نظر نہیں آسکتیں۔لیکن خلق عظیم ضرور نظر آجاتا ہے اور خلق عظیم کا فقدان بھی نظر آنے والی چیز ہے جس کو مجرمین کے طور پر پیش کیا گیا۔فرمایا تمھاری عقلیں کہاں گئیں تمھارا مفتون ہونا تو اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جو خلقِ عظیم کے حامل کی پیروی کرنے والے ہیں ان کو تو تم مجنون اور مفتون قرار دے رہے ہو اور گمراہ قرار دے رہے ہو اور تم جو سراسر جرموں میں ڈوبے پڑے ہو تم ان کے مقابل پر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو۔کم سے کم اتنا ہی خیال کرو اتنی ہی حیا کرو کہ خدا تعالیٰ کی طرف تم کیا بات منسوب کر رہے ہو۔اس شکل کے مسلمان بنایا کرتا ہے خدا تعالیٰ ؟ کیا ایسے مسلمان بنائے جاتے ہیں؟ یہ ہے اعلان اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ مِينَ تم کیوں نہیں یہ بات دیکھتے مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ پاگل ہو گئے ہو، ہو کیا گیا ہے تمہیں ؟ یہ فیصلے کر رہے ہو آج؟ أَمْ لَكُمْ كِتُب فِيهِ تَدْرُسُونَ إِنَّ لَكُمْ فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی تحریر ہے خدا تعالیٰ کی کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ لکھا گیا ہو کہ اِنَّ لَكُمْ فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اس بات کی رخصت دے دی ہے، اس بات کا حق دے دیا ہے کہ جو چاہو پسند کرتے پھرو اور جو تم پسند کرو وہی خدا تعالیٰ کی تقدیر بن جائے۔یہ تو نہیں ہو سکتا۔تمہاری پسند اور خدا تعالیٰ کی پسند میں فرق ہے۔خدا کی پسند چلے گی اور تمہاری پسند نہیں چلے گی۔آمْ لَكُمُ اَيْمَانُ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ کیا تمہارے پاس خدا کا کوئی عہد ہے یعنی خدا نے تم سے کوئی عہد باندھ رکھا ہے جو قیامت تک اب چلتا چلا جائے گا۔اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ کہ جو چاہو فیصلے کرتے پھرو، خدا تمہیں اختیار دے بیٹھا ہے اب کہ ہمیشہ کے لئے تم ہی فیصلے کیا کرو گے۔ہر گز نہیں۔نَ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ میں بتایا کہ قلم اور دوات اور تحریریں خدا کے قبضہ میں ہیں اور تمہیں اختیار نہیں ہے کہ تم خدا کی تحریروں کو بدلو اور خدا کے فیصلوں کو تبدیل کرو۔سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمُ اگر وہ اصرار کریں کہ ہاں ایسے ہی ہوگا ہم جو چاہیں کریں گے اور جو چاہیں لکھیں گے اور وہی بات خدا کی بات ہو جائے گی۔تو کہو کہ پھر کون ہے تم میں سے جو اس بات کا ضامن ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کو الٹانے والے ہیں۔ہم حق