خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 599 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 599

خطبات طاہر جلد۵ 599 خطبه جمعه ۱۲ ر ستمبر ۱۹۸۶ء اور باطل کو ممتاز کر کے دکھانے والے ہیں، ہم دکھانے والے ہیں کہ دنیا کی نظر میں بھی تم پاگل ثابت ہو گے، تمہاری حرکتیں مجنونانہ حرکتیں ثابت ہوں گی اور جن کو تم مجنون اور پاگل سمجھ رہے ہو وہی صاحب فہم قرار دئیے جائیں گے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے اس سے زیادہ اور کیا ضمانت ہو سکتی ہے کہ قرآن کریم میں صاحب لوح و قلم نے یہ ضمانت عطا فرما دی ہے کہ تم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کا دامن پکڑ لو اور اس پر قائم ہو جاؤ اور اس پر صبر کر کے بیٹھ جاؤ ، پھر خدا قسم کھاتا ہے لوح و قلم کی قلم اور دوات کی اور ان تحریروں کی جو تقدیر کی تحریریں ہوتی ہیں کہ لازما تم غالب آؤ گے اور تم میں اور تمہارے مخالفوں میں فرق کر کے دکھایا جائے گا۔یہ ضمانت تمہارے پاس قرآن کریم کی ضمانت ہے اس کے مقابل پر اگر ان کا دعویٰ اس سے مختلف ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِید اگر اس کے مخالف دعوی کرتے ہو تو بتاؤ تمہارا کون ضامن ہے، ہمارا تو خدا ضامن ہے، ہماری تو کتاب الہی ضامن ہے۔پس آپ خلق عظیم پر قائم ہوں۔باقی سب باتیں نہ نظر آنے والی ہیں۔لیکن ایک علامت آپ کی ایسی ہے خلق عظیم پر قائم ہونا جسے دنیا دیکھ سکتی ہے۔جسے احمدی دیکھ سکتا ہے جسے نظام جماعت دیکھ سکتا ہے۔اگر آپ خلق عظیم کی نظر آنے والی صفات سے عاری ہوں گے تو یہ دعویٰ کر لینا کہ جو غیر مرئی صفات اس سے پیچھے ہیں وہ ہمارے پاس ہیں ہم ان پر قائم ہیں صرف خلق عظیم سے عاری ہیں یہ کہنا غلط اور جھوٹ ہے۔خلق عظیم بنیاد ہے ان ساری نعمتوں کی جن کا ذکر آنحضرت ﷺ کے متعلق تفصیل سے کیا گیا ہے اور خلق عظیم ہی وہ کسوٹی ہے جس پر دنیا پر کھ سکتی ہے۔پس آپ خلق عظیم پر قائم ہوں اور خلق عظیم سے مراد عام روزمرہ کی بول چال میں نرم ہونا نہیں ہے خلق عظیم کا مضمون تو بہت ہی عظیم الشان اور بہت ہی وسیع مضمون ہے اور وہاں بھی یہ مضمون جاری ہوتا ہے جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔وہاں بھی جاری ہوتا ہے جہاں سب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔بہت بار یک مضمون ہے خلق عظیم کا جس کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کے مطالعہ سے ہی سیکھا جا سکتا ہے۔اسی لئے میں نے جماعت کو تلقین کی تھی نئے مالی سال کے آغاز پر کہ اپنے پروگراموں میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مضمون پر بہت غیر معمولی زور دیں اور اب ہماری