خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 593

خطبات طاہر جلد۵ 593 خطبه جمعه ۲ ار ستمبر ۱۹۸۶ء کی تحریر جو علم کی مظہر ہے یعنی خدائی تقدیر کی تحریر اسے گواہ ٹھہرایا۔تو مطلب یہ ہے کہ تو علم وفکر کے انتہائی بالا مقام تک پہنچا ہوا ہے کجا یہ کہ تجھے مجنون کہتے ہیں اور اس کا ایک ثبوت یہ دیا کہ وَ إِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونِ پاگل آدمی تو مرفوع القلم ہوا کرتا ہے۔وہاں بھی لفظ استعمال کیا جاتا ہے کہ اس سے قلم اٹھالی گئی ہے، نہ اسے کوئی سزا نہ کوئی جزا ،ہاں اپنے کئے کی خود بخود ایک قانونِ قدرت کے طور پر سزا پاتا چلا جاتا ہے۔ہر نیکی ، ہر فائدہ سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کے برعکس وہ جو نیک عمل کر نیوالا ہو اور عمداً آنکھیں کھول کر نیکی کے میدان میں قدم رکھنے والا ہو اس کے ساتھ ایک اجر کا قانون بھی چلتا ہے اور ہر انسان جو بالا رادہ کوئی نیکی کا فعل کرے اور حکمت کے ساتھ نیکی کا فعل کرے، صاحب عقل و فہم بھی ہو اور با عمل بھی ہو اس کو اجر ملتا ہے۔تو فرمایا کہ تیرا اجر تو غَيْرَ مَمْنُونٍ ہے۔تیرے چھوٹے سے چھوٹے فعل کا بھی ایسا اچھا ہم نتیجہ نکالتے ہیں اور ایسا دائمی نتیجہ نکالتے ہیں کہ جو منقطع ہونے والا نہیں۔دشمن بھی بظاہر ایک کوشش کر رہا ہے اور تو بھی ایک کوشش کر رہا ہے لیکن اس کی کوششیں بے پھل اور بے ثمر ثابت ہوتی ہیں، تیری ادنی سی کوششوں کو بھی ایسے پھل لگتے ہیں کہ جو ختم ہونے میں نہیں آتے۔لامتناہی سلسلہ انعامات کا چلتا ہے تو تجھے یہ کیسے مجنون کہہ سکتے ہیں۔مجنون تو اپنے پائے ہوئے کو کھو دیا کرتا ہے۔مجنون کی تو انتہائی کوشش بھی بے ثمر ہوتی ہے کجا یہ کہ معمولی معمولی ، ادنی ادنی کوششیں بھی ایک نگاہ میں باشمر ثابت ہو جائیں۔تو فرمایا کہ تیری ذات کے ساتھ ایک اجر غیر ممنون وابستہ ہو چکا ہے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اور تیرا خلق بہت عظیم ہے۔اردو میں تو یہ ترجمہ کیا گیا ہے کہ تیرا خلق بہت عظیم ہے یہ درست نہیں عربی میں لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيمٍ کا متبادل اردو محاورہ کوئی نہیں ورنہ لفظا یہ ترجمہ کرنا چاہئے کہ تو عظیم خلق پر ہے۔عظیم خلق پر ہونے کا مفہوم خلق کے اوپر غالب آنے کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔یعنی یہ نہیں کہ محض تیرے اخلاق اچھے ہیں بلکہ جس طرح ایک اعلیٰ گھڑ سوار گھوڑے کو قابو میں رکھتا ہے۔اُس کی باگ دوڑ اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس کے اشارے پر چلتا ہے۔اس طرح تو اخلاق کا سوار قرار دیا گیا ہے۔اخلاق تیری قدرت سے باہر نہیں ہیں تو پوری طرح ان پر فائز اور قائم ہے۔پس لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمِ میں ایک بہت ہی بڑا خراج تحسین حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کو دیا گیا ہے کہ گویا جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں بات تو تیری لونڈی ہے۔