خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد۵ 592 خطبه جمعه ۱۲ ر ستمبر ۱۹۸۶ء والا ایک اجر ہے۔وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اور یقینا تو بہت بڑے اخلاق پر قائم ہے۔فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُونَ پس تو بھی دیکھے گا اور وہ بھی دیکھیں گے۔بِآيَكُمُ الْمَفْتُونَ کہ تم میں سے کون ہے جو مفتون ہے، کون ہے جس کا دماغ پھر گیا ہے۔اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَا عْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ یقینا تیرا رب ہی ہے جو بہتر جانتا ہے کہ کون ہے جو رستے سے گمراہ ہو چکا ہے اور کون ہے جو ہدایت پر ہے فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ پس جھٹلانے والوں کی پیروی مت کر۔وَدُّوا لَو تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وہ چاہتے ہیں کہ تم تھوڑا سا اپنے موقف سے سرک جاؤ تو پھر مقابل پر وہ بھی کچھ نرمی اختیار کریں گے۔وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّن لیکن ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، حد سے زیادہ لغو تمیں کھانے والے اور مھین ، ذلیل انسان، کمینہ صفت انسان کی پیروی نہ کر۔یہاں سب سے پہلی بات جو انسانی توجہ کوکھینچتی ہے اور غور کو دعوت دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مَا انْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ یہ کہنے کیلئے ان اور قلم یعنی دوات اور قلم اور اس تحریر کو جو دوات اور قلم سے لکھی جاتی ہے گواہ کیوں ٹھہرایا گیا ہے، اس کا کیا تعلق ہے؟ در حقیقت سب سے اہم تعلق ان دو بیانات کا یہ ہے کہ عقل کا معراج قلم اور دوات کے ذریعے ہوا ہے اور علم کا معراج قلم اور دوات کے ذریعے ہوا ہے۔اگر آپ انسانی ترقی سے دوات اور قلم کے دور کو نکال دیں اور ہر چیز کو زبانی رہنے دیں۔تو انسانی فکر خواہ کتنی ہی تیز ہو جاتی اور بظاہر کتنا ہی صیقل ہو جاتی وہ علوم جو آج دنیا پر منکشف ہوئے ہیں اُس کا لاکھواں حصہ بھی دنیا پر منکشف نہیں ہو سکتا تھا۔سوانسانی فکر و علم کا معراج ہے قلم اور دوات اور اسے علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور قلم اور دوات بھی وہ نہیں جس سے عام کوئی لکھنے والا لکھتا ہے بلکہ وہ قلم اور دوات جو لوح و قلم کی مظہر ہیں یعنی خدا تعالیٰ کا قلم اور خدا تعالیٰ کی تحریر۔وَمَا يَسْطُرُونَ سے میں یہ معنی لیتا ہوں اور تقدیر کے فرشتے جو لکھتے ہیں یا قوانین قدرت پر خدا تعالیٰ نے جن فرشتوں کو مامور کیا ہے وہ جو تحریر کرتے ہیں ان کو میں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ تو اپنے رب کی نعمت کے نتیجے میں ہرگز مجنون نہیں ہے۔اس گواہی نے بتایا کہ محض یہ اعلان نہیں کیا جارہا کہ تو مجنون نہیں ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا جارہا ہے کہ تو معرفت کے انتہائی مقام پر پہنچا ہوا ہے کیونکہ علم وفکر کے ارتقاء کا موجب جو چیزیں بنیں ان کو گواہ ٹھہرا دیا اور تحریروں میں سے بھی سب سے اعلیٰ پائے