خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 586

خطبات طاہر جلد۵ 586 خطبه جمعه ۵ ستمبر ۱۹۸۶ء تحفظ کا احساس بڑھنے کے نتیجے میں یہ دن بدن جماعت احمدیہ کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرانے کی خاطر اوچھے سے اوچھے ہتھیار استعمال کرتے جارہے ہیں۔مردان میں جو واقعہ پیچھے گزرا اس کے عقب میں اب اور ایسی اطلاعیں ملی ہیں کہ بڑی شدت اور بے قراری کے ساتھ موجودہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ صرف مردان ہی میں یہ معاملہ آگے نہ بڑھے بلکہ اور دوسری جگہوں پر بھی یہ بات پھیل جائے اور عوام الناس کی توجہ خصوصاً صوبہ سرحد اور صوبہ پنجاب میں جماعت احمدیہ کی طرف منتقل ہو جائے اور اس کے نتیجے میں سیاسی بے قراری اور بے چینی کا رخ جماعت احمدیہ کی طرف پھیر دیا جائے۔کل ہی جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق مردان میں علماء نے یعنی مبینہ طور پر جو علماء کہلاتے ہیں انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ اب ہم گھر گھر جا کر ہر احمدی کو یہ نوٹس دیں گے کہ یا تو وہ مرتد ہو جائے اپنے دین سے اور جس کو ہم مذہب سمجھتے ہیں اس میں داخل ہو جائے ورنہ پھر اسے مردان میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے لئے ایک با قاعدہ پر فارما بنا کر اس پر دستخط کروانے کی مہم کا اعلان ہوا ہے۔اسی طرح کی اور کمینی حرکتیں دوسری جگہ بھی کچھ سوچی جارہی ہیں، کچھ منظر عام پر آگئی ہیں۔ان حرکتوں میں سے جو بعض گہری سازشوں کا نتیجہ ہیں ،ایک یہ ہے کہ سیالکوٹ میں اس جگہ جہاں سے وہ So-called یعنی مبینہ طور پر جو مولوی سمجھا جاتا ہے، اسلم قریشی وہ غائب ہوا تھا اس کے متعلق دو غیر احمدی مقامی لوگوں کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی سکیم کی اطلاع ملی ہے یعنی منصوبہ یہ ہے دو غیر احمدیوں کو جن کو پکڑا جا چکا ہے ان کو وعدہ معاف گواہ بنایا جائے اور ہمارے ایک معز ز دوست، نہایت شریف النفس اور با حوصلہ جو پہلے بھی حکومت کے عتاب کا نشانہ بن چکے ہیں اور شروع میں ہی اس کیس میں پولیس نے ان کو پکڑ کر ان پر کافی تشدد بھی کیا اور پہلی تحقیق کی رپورٹ میں ہی جس میں پورے تشدد کے ناکام ہونے کے بعد رپورٹ کرنے والی اتھارٹی نے حالات کا جائزہ لیا ہے، اس رپورٹ میں ہی یہ بات کھول دی گئی تھی کہ نہ اس دوست کا جن کا نام مشتاق ہے نہ ان کا کوئی تعلق ہے اس معاملے میں نہ جماعت احمدیہ کا کوئی دور کا تعلق ہے بلکہ یہ بھی پتہ نہیں کہ اسلم قریشی خود بھاگ کر کسی غیر ملک گیا ہوا ہے یا بعض کسی سازش کے نتیجے میں اس کو چھپا دیا گیا ہے ملک