خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 574

خطبات طاہر جلد۵ 574 خطبه جمعه ۲۹/ اگست ۱۹۸۶ء بھی تعلیم دیتا ہے ، وہ خدا جس نے تمام دنیا کے معابد کی حفاظت کی تعلیم دی بلکہ مسلمانوں کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا ، اس خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ خدائے واحد کی توحید کے لئے ، خالصتہ اس کی عبادت کے لئے قائم کی گئی مسجد کو شہید کر رہے تھے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ سب لوگ جن کو پولیس نے پکڑا ان پر فردجرم یہ عائد کی گئی کہ فلاں شخص نے اذان کہی اور فلاں شخص نے اس کے بعد با قاعدہ نماز پڑھی ، اتنا بڑا جرم ادا کیا ہے اور مربی کے متعلق لکھا گیا کہ حد یہ ہے کہ نماز کے بعد اس نے درس بھی دیا قرآن شریف کا اور ایک شخص کے او پر مقدمہ درج ہے کہ اس کے پاس سے بسم اللہ برآمد ہوئی۔یعنی افیون برآمد کر رہی ہے ساری قوم اور افیون درآمد کر رہی ہے ایک ملک سے یہ درآمد کرتی ہے اور ایک ملک کو یہ برآمد کرتی ہے۔دنیا جہان کے گند پھیل چکے ہیں ، سوسائٹی کراہ رہی ہے دکھوں سے ، بددیانتی عام ہو گئی ہے، فساد ہر طرف پھیل گیا ہے، ڈاکو اتنے کہ آئے دن جو فساد کی خبر میں ملتی ہیں حکومت بڑے فخر سے اعلان کرتی ہے کہ نہیں یہ ہمارے خلاف کوئی تحریک نہیں ہے ملک ڈاکوؤں سے بھر گیا ہے۔یعنی سارے سندھ میں جتنے فساد ہو رہے ہیں حکومت کے نزدیک یہ ڈا کے پڑ رہے ہیں اور یہ ڈاکوؤں کی وجہ سے ہو رہا ہے سب کچھ۔اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔بددیانتی سے عدالتیں بھر گئیں۔تمام محکمے ذلیل و خوار ہو گئے۔جگہ جگہ غریب عوام الناس دکھوں میں مصیبتوں میں مبتلا ہیں، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں چل رہا، یہ سارے جرائم جو کثرت سے ملک میں پھیلتے چلے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں قوم کا انگ انگ دکھ رہا ہے۔ان سب جرائم کی اسلام کو کوئی بھی پرواہ نہیں ہے یعنی ان ملانوں کے اسلام کو۔صرف ملانوں کے اسلام کو خطرہ یہ ہے کہ فلاں شخص سے بسم اللہ نہ برآمد ہو جائے ، فلاں شخص عبادت نہ کرنی شروع کر دے اور عبادت کے بعد قرآن کریم کی تلاوت نہ کرے کوئی۔یہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بھیانک جرائم کی وہاں سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ان لوگوں نے جنہوں نے اسلام کے نام پر مسجد کو شہید کرنا شروع کیا۔مسجد احمدیہ سے جتنے قرآن کریم نکلے ان کو پھاڑ کر وہاں گندی نالیوں میں پھینکا ، ان کو پاؤں تلے کچلا اور بعض بد بختوں نے اس پر پیشاب کیا اور ساتھ نعرہ ہائے تکبیر بلند ہورہے تھے اور ساتھ یہ اللھم لبیک اللھم لبیک کہا جار ہا تھا۔اس